´سیدنا عمیر جو سیدنا ابی اللحم رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں ، کہتے ہیں کہ` مجھے میرے مالک ( ابی اللحم ) نے گوشت سکھانے کا حکم دیا ۔ ایک فقیر آ گیا تو میں نے اسے کھانے کے موافق دے دیا ۔ جب مالک کو خبر ہوئی تو انہوں نے مجھے مارا ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ( سبحان اللہ آپ یتیموں اور بیواؤں اور مظلوموں کی امان تھے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور فرمایا کہ تو نے اسے کیوں مارا ؟ انہوں نے کہا کہ یہ میرا کھانا میرے حکم کے بغیر دے دیتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( اس خیرات کا ) تم دونوں کو ثواب ہے ۔
حدیث نمبر: 553
ابوعبداللہ آصف