´سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا کہ رب کعبہ کی قسم وہی نقصان والے ہیں ۔ تب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بیٹھ گیا اور نہ ٹھہر سکا کہ کھڑا ہو گیا اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں ، وہ کون ( لوگ ) ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بہت مال والے ہیں ۔ مگر جس نے خرچ کیا ادھر اور ادھر اور جدھر مناسب ہوا اور دیا آگے سے اور پیچھے سے اور داہنے اور بائیں سے اور ایسے لوگ تھوڑے ہیں ۔ ( یعنی جہاں دین کی تائید اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی دیکھی وہاں بلا تکلف خرچ کیا ) اور جو اونٹ ، گائے اور بکری والا ان کی زکوٰۃ نہیں دیتا تو قیامت کے دن وہ جانور ، جیسے دنیا میں تھے اس سے زیادہ موٹے اور چربیلے ہو کر آئیں گے اور اپنے سینگوں سے اس کو ماریں گے ، اور اپنے کھروں سے اس کو روندیں گے ۔ جب ان جانوروں میں سب سے پچھلا گزر جائے گا تو آگے والا پھر اس پر آ جائے گا ۔ اور جب تک بندوں کا فیصلہ نہ ہو جائے ، اس کو یہی عذاب ہوتا رہے گا ۔
حدیث نمبر: 506
ابوعبداللہ آصف