حدیث نمبر: 1338
ابوعبداللہ آصف

´ابوعثمان کہتے ہیں کہ` سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں لکھا اور ہم ( ایران کے ایک ملک ) آذربائیجان میں تھے کہ اے عتبہ بن فرقدیہ جو مال جو تیرے پاس ہے نہ تیرا کمایا ہوا ہے نہ تیرے باپ کا ، نہ تیری ماں کا ، پس تو مسلمانوں کو ان کے ٹھکانوں میں سیر کر جس طرح تو اپنے ٹھکانے میں سیر ہوتا ہے ( یعنی بغیر طلب کے ان کو پہنچا دے ) ۔ اور تم عیش کرنے سے بچو اور مشرکوں کی وضع سے اور ریشمی کپڑا پہننے سے ( بھی بچو ) مگر اتنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی درمیانی اور شہادت کی انگلی کو اٹھایا اور ان کو ملا لیا ( یعنی دو انگلی چوڑا حاشیہ اگر کہیں لگا ہو تو جائز ہے ) ۔ زہیر نے عاصم سے کہا کہ یہی کتاب میں ہے اور زہیر نے اپنی دونوں انگلیاں بلند کیں ۔

حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 1338