حدیث نمبر: 1887
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک دفعہ مجھے سخت بھوک لگی تو میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملا اور کہا کہ قرآن کی فلاں آیت مجھ کو پڑھ کر سناؤ ۔ وہ اپنے گھر میں گئے اور وہ آیت مجھ کو پڑھ کر سنائی سمجھائی ۔ میں وہاں سے ( واپس ) چلا ، تھوڑی دور نہیں گیا تھا کہ بھوک کی وجہ سے منہ کے بل گر پڑا ، دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے سرہانے کھڑے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے ابوہریرہ ! “ میں نے کہا لبیک یا رسول اللہ ! وسعدیک پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کے اٹھایا اور میری حالت کو پہچان گئے اور مجھے اپنے دولت خانہ ( گھر ) میں لے گئے اور ایک دودھ کا پیالہ میرے لیے لانے کا حکم فرمایا ۔ میں نے اس میں سے پیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے ابوہریرہ ! اور پیو ۔ “ میں نے پھر پیا ، فرمایا : ” اور پیو ۔ “ میں نے اور پیا حتیٰ کہ میرا پیٹ پھول کر پیالہ سا ہو گیا ۔ پھر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملا اور اپنی بھوک اور ان کے پاس آنے کا قصہ بیان کیا اور میں نے کہا کہ اے عمر ! اللہ تعالیٰ نے ( میری بھوک دور کرنے کے لیے ) ایک ایسے شخص کو چنا جو تم سے زیادہ اس بات کے لائق تھا ، اللہ کی قسم ! جو آیت میں نے تم سے پڑھوا کر سنی ، وہ آیت مجھے تم سے زیادہ ہے ( یہ سن کر ) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ( اے ابوہریرہ ! ) اللہ کی قسم ! اگر میں اس وقت تمہیں اپنے گھر لے جا کر کھانا کھلاتا تو مجھے سرخ اونٹ کے ملنے سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ۔