کتب حدیثمختصر صحيح بخاريابوابباب: خلع ( کا کیا حکم ہے ) اور اس میں طلاق کیسے ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول ” اور تمہیں حلال نہیں کہ تم نے انھیں جو دے دیا ہے اس میں سے کچھ بھی لو ، ہاں یہ اور بات ہے کہ دونوں کو اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکنے کا خوف ہو “ ( سورۃ البقرہ : 229 ) ۔
حدیث نمبر: 1878
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` سیدنا ثابت قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! میں ( اپنے شوہر ) ثابت سے قیس سے ( جو ناراض ہوں تو ) کسی بری عادت یا دینی برائی سے ناراض نہیں ہوں لیکن میں یہ برا سمجھتی ہوں ( جبکہ اس سے میری طبیعت بیزار ہے ) کہ کہیں میں حالت اسلام میں کفران ( نعمت ) میں مبتلا نہ ہو جاؤں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تو اس کا باغ واپس دیدے گی ( جو اس نے تجھے حق مہر میں دیا ہے ) “ وہ بولی جی ہاں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( اے ثابت ! ) اپنا باغ لے لے اور اسے ایک طلاق دیدے ۔ “
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 1878