کتب حدیث ›
مختصر صحيح بخاري › ابواب
› باب: جو شخص کہتا ہے دو سال کے بعد دودھ پینا ( معتبر ) نہیں ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے ” ( مائیں اپنی اولاد کو ) پورے دو سال دودھ پلائیں جن کا ارادہ دودھ پلانے کی مدت بالکل پوری کرنے کا ہو ۔ “ ( سورۃ البقرہ : 233 ) اور تھوڑے اور بہت دودھ پینے سے حرمت ثابت ہو جاتی ہے ۔
حدیث نمبر: 1841
ابوعبداللہ آصف
´ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے اور ( اس وقت ) ایک شخص ان کے پاس بیٹھا تھا ، یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ناگوار گزرا ۔ میں نے عرض کی کہ ” یہ میرا دودھ شریک بھائی ہے “ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” غور کرو کہ تمہارا کون کون بھائی ہے کیونکہ دودھ کا رشتہ جب ہی ثابت ہوتا ہے کہ بچے کی غذا ( دودھ ) ہو ۔ “