کتب حدیثمختصر صحيح بخاريابوابباب: ” اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو “ ( النساء : 23 ) کا بیان ( اور فرمان رسول کہ ) ” جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہیں وہی رشتے رضاعت سے حرام ہیں ۔
حدیث نمبر: 1838
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( سید الشہداء سیدنا ) حمزہ ( رضی اللہ عنہ ) کی بیٹی سے شادی کیوں نہیں کر لیتے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ دودھ کے رشتے سے میری بھتیجی ہے ۔ “
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 1838
حدیث نمبر: 1839
ابوعبداللہ آصف
´ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` انھوں نے ایک آدمی کی آواز سنی جو ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے مکان میں جانے کی اجازت مانگ رہا تھا ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا : ” یا رسول اللہ بیشک یہ ( غیر ) مرد آپ کے مکان میں جانا چاہتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں جانتا ہوں کہ یہ فلاں شخص ہے جو حفصہ رضی اللہ عنہا کا رضاعی چچا ہے “ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ اگر فلاں شخص زندہ ہوتا جو کہ دودھ کے رشتہ سے میرا چچا تھا تو کیا میں اس کے سامنے نکلتی ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ! جو رشتے نسب سے حرام ہیں ( وہ ) دودھ پینے سے بھی حرام ہیں ۔ “
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 1839
حدیث نمبر: 1840
ابوعبداللہ آصف
´ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! آپ میری بہن بنت ابوسفیان سے نکاح کر لیجئیے ۔ آپ نے پوچھا : ” کیا تو یہ بات پسند کرتی ہے ؟ “ ( کیا تجھے سوکن ناگوار نہیں گزرتی ؟ ) میں نے عرض کی ” جی ہاں “ ( لیکن ) اب بھی تو آپ کی میں ہی اکیلی بیوی نہیں ہوں اور مجھے اپنی بہن کو اپنے ساتھ بھلائی میں شریک بنانا ناگوار نہیں ہے ۔ آپ نے فرمایا : ” مجھے یہ جائز ہی نہیں ہے ( کہ دو بہنیں ایک وقت نکاح میں رکھوں ) ۔ “ میں نے کہا کہ ہم نے تو سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوسلمہ کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا ام سلمہ کی بیٹی سے ؟ ( میں نکاح کرنا چاہتا ہوں ) ۔ “ میں نے کہا جی ہاں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ تو اگر میری ربیبہ ( پہلے خاوند سے بیوی کی بیٹی ) نہ بھی ہوتی تب بھی حلال نہ ہوتی کیونکہ وہ دودھ کے رشتے میں میری بھتیجی ہے ، مجھے اور ابوسلمہ ( اس کے باپ ) کو ثوبیہ رضی اللہ عنہا نے دودھ پلایا تھا ( اے بی بی ! تجھ کو لازم ہے کہ ) میرے روبرو اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو پیش نہ کرو ( مجھے حلال نہیں ) ۔ “
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 1840