کتب حدیث ›
مختصر صحيح بخاري › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول ” پھر تم اس جگہ سے لوٹو جہاں سے سب لوگ لوٹتے ہیں “ ( سورۃ البقرہ : 199 ) کے بیان میں ۔
حدیث نمبر: 1721
ابوعبداللہ آصف
´ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ` ( دور جاہلیت میں ) قریش اور جو لوگ ان کے طریقہ پر چلتے تھے ، مزدلفہ میں ٹھہرا کرتے تھے اور ان لوگوں کو حمس کہتے ( اپنے آپ کو معزز سمجھتے تھے ) باقی تمام اہل عرب عرفات میں ٹھہرتے تھے ۔ جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرمایا : ” پہلے عرفات میں جائیں اور وہاں ٹھہریں پھر وہاں سے لوٹ کر ( مزدلفہ میں ) آئیں ۔ “