کتب حدیثمختصر صحيح بخاريابوابباب: اللہ تعالیٰ کے قول ” تم مقام ابراہیم کو جائے نماز بناؤ “ ( سورۃ البقرہ : 125 ) کے بیان میں ۔
حدیث نمبر: 1718
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ( میری رائے ) تین باتوں میں اللہ کے حکم کے موافق ہوئی یا یوں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تین باتوں میں میرے ساتھ اتفاق کیا ۔ ( پہلے یہ کہ ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی اگر آپ مقام ابراہیم پر ( طواف کے بعد ) نماز پڑھا کریں تو بہتر ہو ، ( اسی کے موافق اللہ نے یہ آیت ” تم مقام ابراہیم کو جائے نماز بناؤ ۔ “ اتاری ) اور ( دوسری یہ کہ ) میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! آپ کے پاس اچھے برے ہر قسم کے لوگ آتے جاتے ہیں ، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم امہات المؤمنین ( اپنی ازواج مطہرات ) کو پردہ کا حکم دے دیں تو اچھا ہے تو اس کے موافق اللہ نے حجاب کی آیت ( ( یٰآیّھا النّبیّ قل لا زواجک .... الخ ) ) نازل کی ۔ ( تیسری یہ کہ ) جب مجھے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بعض ازواج پر غصہ ہو گئے تو میں ان کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ تم باز آ جاؤ ، ورنہ اللہ اپنے رسول کو تم سے اچھی بیویاں تمہارے بدلہ میں عطا کر دے گا یہاں تک کہ جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیوی ( ام سلمہ رضی اللہ عنہا ) پاس آیا تو انھوں نے کہا ” اے عمر ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کو نصیحت نہیں کر سکتے جو تم نصیحت کرنے آئے ہو ؟ “ تو اس وقت ( میرے کہنے کے موافق ) اللہ نے یہ آیت اتاری ” اگر وہ ( پیغمبر ) تمہیں طلاق دے دیں تو بہت جلد انھیں ان کا رب ! تمہارے بدلے تم سے بہتر بیویاں عنایت فرمائے گا جو اسلام والیاں .... ۔ “ ( سورۃ التحریم : 5 )
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 1718