کتب حدیثمختصر صحيح بخاريابوابباب: خمس کے فرض ہونے کی کیفیت کا بیان ۔
حدیث نمبر: 1318
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ، جو کچھ ( مال ) ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے ۔ “ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی مال میں سے اپنے گھر والوں کے لیے سال بھر کا خرچ لے لیتے تھے ، اس کے بعد جو کچھ بچتا ، اس کو اس مصرف میں خرچ کر دیتے تھے جہاں اللہ کا مال یعنی صدقہ خرچ کیا جاتا ہے ۔ پھر ( سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ) اپنے پاس بیٹھے ہوئے صحابہ رضی اللہ عنہم سے کہا کہ میں تمہیں اس اللہ کی قسم دلاتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں ( بتاؤ ! ) کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا ؟ انھوں نے کہا کہ بیشک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا اور اس مجلس میں سیدنا علی ، عباس ، عثمان ، عبدالرحمن بن عوف ، زبیر اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما تھے ۔ اور سیدنا علی بن ابی طالب اور سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہما کے جھگڑے کی بابت پوری حدیث بیان کی جس کا لانا ہمارے فرائض میں شامل نہیں ۔ ( سورۃ الانفال کی : 41 میں خمس کا ذکر ہے ۔ باب میں اسی طرف اشارہ ہے اور حدیث دیکھئیے کتاب : ایمان کا بیان ۔ ۔ ۔ باب : خمس مال غنیمت کے پانچویں حصہ کا ادا کرنا ایمان میں سے ہے ) ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 1318