کتب حدیث ›
مختصر صحيح بخاري › ابواب
› باب: دوسرے ممالک کے کافر سفیروں سے سلوک کرنا ۔ کیا ذمی کافروں کی سفارش کر سکتے ہیں ؟ اور کافروں ، ذمیوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائے ؟
حدیث نمبر: 1305
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` انھوں نے کہا جمعرات کا دن ، ہائے جمعرات کا دن ۔ پھر رونے لگے اتنا روئے کہ زمین کی کنکریوں کو تر کر دیا ۔ پھر کہنے لگے کہ جمعرات کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض بڑھ گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے پاس لکھنے کی کوئی چیز لاؤ تاکہ میں تمہیں ایک تحریر لکھ دوں کہ پھر میرے بعد تم گمراہ نہ ہو گے ۔ “ مگر لوگوں نے اختلاف کیا ، حالانکہ نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اختلاف کرنا زیبا نہیں ۔ پھر لوگوں نے کہا کہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیماری کی شدت سے ) جدائی کی باتیں کر رہے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے چھوڑ دو کیونکہ میں جس حالت میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلاتے ہو ۔ “ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت تین باتوں کی وصیت فرمائی ۔ ( 1 ) یہ کہ مشرکوں کو جزیرہ عرب سے نکال دینا ( 2 ) اور سفیروں سے ایسے ہی سلوک کرنا جیسا میں کیا کرتا تھا اور تیسری بات میں بھول گیا ۔