کتب حدیثمختصر صحيح بخاريابوابباب: جس شخص نے دشمن کو دیکھ کر بلند آواز سے پکارا کہ ” میں صبح کے وقت لٹ گیا “ تاکہ لوگوں کو سنا دے ۔
حدیث نمبر: 1300
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں مدینہ سے غابہ کی طرف جا رہا تھا ۔ جب میں غابہ کی پہاڑی پر پہنچا تو مجھے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا ایک غلام ملا ، میں نے کہا ارے ! تو یہاں کیسے ؟ اس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیاں پکڑ لی گئی ہیں ( میں ان کی تلاش میں ہوں ) میں نے پوچھا کہ ان کو کس نے پکڑا ہے ؟ غلام نے کہا کہ غطفان اور فزارہ نے پس تین مرتبہ اس زور سے چلایا کہ میں نے مدینہ بھر کو سنا دیا ” یا صباحاہ یا صباحاہ “ اس کے بعد میں دوڑا اور ڈاکوؤں کو پا لیا اور وہ اونٹنیاں پکڑے جا رہے تھے ۔ پس میں نے انھیں تیر مارنا شروع کیا اور میں یہ کہتا جاتا تھا : میں ہوں سلمہ بن اکوع جان لو ۔ ۔ ۔ آج پاجی سب مریں گے مان لو ۔ ۔ ۔ چنانچہ میں نے اونٹنیاں ان سے چھڑا لیں ، قبل اس کے کہ وہ ان کا دودھ پئیں ۔ پھر میں ان کو ہانکتا ہوا لا رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ملے ، میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! وہ لوگ پیاسے تھے اور میں نے قبل اس کے کہ وہ ان کا دودھ پئیں جلدی سے یہ اونٹنیاں لے لیں ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے تعاقب میں فوج روانہ کر دیجئیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے ابن اکوع ! تم ان پر قابو پا چکے ، اب جانے دو ( درگزر کرو ) وہ تو اپنی قوم میں پہنچ گئے ، وہاں ان کی مہمانی ہو رہی ہو گی ۔ “
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 1300