کتب حدیثمختصر صحيح بخاريابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں کو اسلام اور ( اپنی ) نبوت کی طرف بلانا اور اس بات کی دعوت دینا کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں ۔
حدیث نمبر: 1266
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر کے دن یہ فرماتے ہوئے سنا : ” میں اب جھنڈا اس شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر فتح ہو جائے گی ۔ “ پس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کھڑے ہوئے اس بات کی امید کر رہے تھے کہ ان میں سے جھنڈا کس کو ملتا ہے ۔ پھر دوسرے دن ہر شخص اس بات کی امید کرتا رہا کہ جھنڈا ہمیں عطا ہو گا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” علی ( رضی اللہ عنہ ) کہاں ہیں ؟ “ کسی نے بتایا کہ ان کی دونوں آنکھوں میں درد ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو وہ بلائے گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دونوں آنکھوں میں لعاب لگا دیا ، وہ فوراً اچھے ہو گئے ( ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ) گویا ان کو کوئی تکلیف نہ تھی ۔ پھر انھوں نے پوچھا کہ ہم ان کافروں سے جنگ کریں گے یہاں تک کہ وہ مسلمان ہو جائیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آہستگی کرو ، اب تم ان کے میدان میں جانا تو اسلام کی طرف بلانا اور جو ( اللہ کی طرف سے ) ان پر فرض ہے وہ بتانا ۔ اللہ کی قسم ! اگر تم سے ایک شخص بھی ہدایت پا جائے تو وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے ۔ “
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 1266