کتب حدیث › مختصر صحيح بخاري › ابواب › باب: تلوار پر سونے چاندی کا کام کرانا ( کیسا ہے ؟ ) ۔ ❮کتاب:صحيح البخاريصحيح مسلمسنن ابي داودسنن ابن ماجهسنن نسائيسنن ترمذيصحيح ابن خزيمهصحیح ابن حبانمسند احمدموطا امام مالك رواية يحييٰموطا امام مالك رواية ابن القاسمسنن دارميسنن الدارقطنيسنن سعید بن منصورمصنف ابن ابي شيبهالمنتقى ابن الجارودالادب المفردصحيح الادب المفردمشكوة المصابيحبلوغ المراماللؤلؤ والمرجانشمائل ترمذيصحيفه همام بن منبهسلسله احاديث صحيحهمجموعه ضعيف احاديثمختصر صحيح بخاريمختصر صحيح مسلممختصر حصن المسلممسند الإمام الشافعيمسند الحميديمسند اسحاق بن راهويهمسند عبدالله بن مباركمسند الشهابمسند عبدالرحمن بن عوفمسند عبدالله بن عمرمسند عمر بن عبد العزيزالفتح الربانیمعجم صغير للطبرانيحدیث نمبر:جائیں❯ مختصر صحيح بخاري — جہاد اور جنگی حالات کے بیان میں باب: تلوار پر سونے چاندی کا کام کرانا ( کیسا ہے ؟ ) ۔ حدیث نمبر: 1256 ابوعبداللہ آصف´سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` بیشک یہ تمام فتوحات ان لوگوں نے کی ہیں جن کی تلواروں میں نہ سونے کا کام تھا ، نہ چاندی کا ۔ ان کی تلوار پر چمڑے کا اور سیسہ اور لوہے کا کام ہوتا تھا ۔حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 1256 ❮ پچھلا باب اگلا باب ❯