حدیث نمبر: 1246
ابوعبداللہ آصف
´ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( کسی سفر میں ایک رات کو ) سوئے نہ تھے ، لہٰذا جب مدینہ پہنچے تو ( نیند غالب تھی ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کاش ! میرے نیک اصحاب میں کوئی آج کی شب میرا پہرہ دے ۔ “ اتنے میں اچانک ہم نے ہتھیار کی آواز سنی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کون ہے ؟ “ اس نے جواب دیا کہ سعد بن ابی وقاص ، میں اس لیے آیا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہرہ دوں ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ۔
حدیث نمبر: 1247
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” درہم و دینار اور چادر کا بندہ ہلاک ہو جائے کہ اگر اسے دیا جائے تو وہ خوش ہو جائے اور اگر نہ دیا جائے تو ناخوش ہو ۔ ( ایسا شخص ) ہلاک ہو جائے اور سرنگوں ہو جائے اور اگر اس کو کانٹا چبھ جائے تو کوئی نہ نکالے ۔ خوشخبری ہو اس بندے کو جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے اپنے گھوڑے کی لگام ہر وقت اپنے ہاتھ میں لیے رہے ، اس کا سر غبارآلود ہو ، اس کے دونوں پیر غبارآلود ہوں ، اگر اس سے کہا جائے کہ پہرہ دے تو وہ پہرہ دے اور اگر لشکر کے پیچھے حفاظت کے لیے مقرر ہو تو لشکر کے پیچھے رہے ۔ ( غرض جو حکم ملے اس کی تعمیل کرے اور غریبی کی وجہ سے دنیا کے لوگوں میں اس کی قدر و منزلت بالکل نہ ہو حتیٰ کہ ) اگر وہ ( کسی کے پاس جانے کی ) اجازت مانگے تو اسے اجازت نہ ملے اور اگر وہ ( کسی کی ) سفارش کرے تو اس کی سفارش نہ مانی جائے ۔ “