کتب حدیثمختصر صحيح بخاريابوابباب: اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ نساء میں یہ ) فرمانا ” اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھ رہنے والے .... ( ( غفوراً رحیمًا ) ) تک “ ۔
حدیث نمبر: 1224
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے یہ آیت لکھوا رہے تھے ” اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھ رہنے والے مومن برابر نہیں ۔ “ اتنے میں ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے اور کہا کہ یا رسول اللہ ! اگر میں قدرت رکھتا تو ضرور جہاد کرتا اور وہ نابینا آدمی تھے پس اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتارنا شروع کی ۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران میری ران پر رکھی ہوئی تھی ، پس وحی کے اثر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران ایسی بھاری ہو گئی کہ مجھے خوف ہوا کہ میری ران پھٹ جائے گی ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ حالت دور ہو گئی تو اللہ نے نازل فرمایا : ” یعنی سوائے ان لوگوں کے جو معذور ہیں ۔ “ ( مثلا نابینا ، لنگڑا ، اپاہج وغیرہ ) ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 1224