کتب حدیثمختصر صحيح بخاريابوابباب: جس کو نامعلوم تیر لگے اور وہ مر جائے ۔
حدیث نمبر: 1217
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ام الربیع براء کی بیٹی جو حارثہ بن سراقہ کی ماں تھیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کی کہ اے اللہ کے نبی ! مجھے حارثہ کی کیفیت بتائیے اور وہ بدر کے دن مقتول ہوئے تھے ، ایک نامعلوم تیر ان کو لگ گیا تھا ، کہ اگر وہ جنت میں ہوں تو میں صبر کروں ( کہ وہ آرام میں ہے ) اور اگر کوئی دوسری بات ہو تو میں ان پر خوب روؤں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے ام حارثہ ! ( ایک جنت کیا ) جنت کے اندر بہت سی جنتیں ( باغ ) ہیں اور بیشک تمہارا بیٹا سب سے اعلیٰ جنت ( باغ ) فردوس میں ہے ۔ “
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 1217