کتب حدیث › مختصر صحيح بخاري › ابواب ❮کتاب:صحيح البخاريصحيح مسلمسنن ابي داودسنن ابن ماجهسنن نسائيسنن ترمذيصحيح ابن خزيمهصحیح ابن حبانمسند احمدموطا امام مالك رواية يحييٰموطا امام مالك رواية ابن القاسمسنن دارميسنن الدارقطنيسنن سعید بن منصورمصنف ابن ابي شيبهالمنتقى ابن الجارودالادب المفردصحيح الادب المفردمشكوة المصابيحبلوغ المراماللؤلؤ والمرجانشمائل ترمذيصحيفه همام بن منبهسلسله احاديث صحيحهمجموعه ضعيف احاديثمختصر صحيح بخاريمختصر صحيح مسلممختصر حصن المسلممسند الإمام الشافعيمسند الحميديمسند اسحاق بن راهويهمسند عبدالله بن مباركمسند الشهابمسند عبدالرحمن بن عوفمسند عبدالله بن عمرمسند عمر بن عبد العزيزالفتح الربانیمعجم صغير للطبرانيحدیث نمبر:جائیں❯ فہرستِ ابواب — مختصر صحيح بخاري باب: جہاد کی فضیلت اور جنگی حالات کا بیان ۔ حدیث 1204–1204 باب: سب لوگوں میں افضل وہ مومن ہے ۔ جو اپنی جان اور اپنے مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہو ۔ حدیث 1205–1206 باب: جہاد فی سبیل اللہ کرنے والوں کے مراتب مختلف ہیں ۔ حدیث 1207–1207 باب: صبح و شام کے وقت اللہ کی راہ میں چلنا اور جنت میں ایک کمان برابر جگہ کی فضیلت ۔ حدیث 1208–1209 باب: بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ۔ حدیث 1210–1210 باب: جو شخص اللہ کی راہ میں زخمی ہو جائے یا اس کو نیزہ لگ جائے ، اس کی فضیلت ۔ حدیث 1211–1212 باب: جو شخص اللہ کی راہ میں زخمی ہو جائے ، اس کی فضیلت ۔ حدیث 1213–1213 باب: اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ الاحزاب میں ) فرمانا : ” مومنوں میں بعض لوگ ایسے ہیں کہ انھوں نے اللہ سے جو عہد کیا تھا اس کو پورا کر دیا اور بعض ایسے ہیں کہ وہ اپنا کام پورا کر چکے ( شہید ہو گئے ) اور بعض ایسے ہیں کہ وہ منتظر ہیں اور انھوں نے ( عہد الٰہی میں ) کچھ تبدیلی نہیں گی “ ۔ حدیث 1214–1215 باب: جہاد سے پہلے کسی عمل صالح کا کرنا ۔ حدیث 1216–1216 باب: جس کو نامعلوم تیر لگے اور وہ مر جائے ۔ حدیث 1217–1217 باب: جو شخص محض اس لیے جہاد کرے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو جائے ۔ حدیث 1218–1218 باب: جنگ کے اور غبار ( آلود ہو جانے ) کے بعد غسل کرنا ۔ حدیث 1219–1219 باب: اگر حالت کفر میں مسلمانوں کو مارے پھر مسلمان ہو جائے ، اسلام پر مضبوط رہے اور پھر اللہ کی راہ میں مارا جائے ۔ حدیث 1220–1221 باب: بعض لوگوں نے جہاد کو روزے پر ترجیح دی ہے ۔ حدیث 1222–1222 باب: قتل کے سوا شہادت کی سات صورتیں اور بھی ہیں ۔ حدیث 1223–1223 باب: اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ نساء میں یہ ) فرمانا ” اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھ رہنے والے .... ( ( غفوراً رحیمًا ) ) تک “ ۔ حدیث 1224–1224 باب: جنگ پر ( لوگوں کو ) آمادہ کرنا ۔ حدیث 1225–1225 باب: ( بغرض حفاظت ) خندق کھودنا ( مسنون ہے ) ۔ حدیث 1226–1227 باب: جو شخص کسی شرعی عذر سے جہاد میں شریک نہ ہو ۔ حدیث 1228–1228 باب: جہاد میں روزہ رکھنے کی فضیلت ۔ حدیث 1229–1229 باب: اس شخص کی فضیلت جو کسی غازی کا سامان تیار کر دے یا اس کے پیچھے اس کے گھر کی خبرگیری عمدہ طور پر کرے ۔ حدیث 1230–1231 باب: جنگ میں جاتے وقت ( اپنے بدن پر ) خوشبو لگانا ۔ حدیث 1232–1232 باب: دشمن دین کی جاسوسی کرنے والے کی فضیلت ۔ حدیث 1233–1233 باب: حاکم عادل ہو یا ظالم ، جہاد قیامت تک قائم رہے گا ۔ حدیث 1234–1235 باب: جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے گھوڑا رکھا اور اللہ کا ( سورۃ الانفال ) میں فرمان : ” گھوڑے باندھ کر رکھو “ ۔ حدیث 1236–1236 باب: گھوڑے اور گدھے کا نام رکھنا کیسا ہے ؟ حدیث 1237–1239 باب: گھوڑے کا منحوس ہونا جو ( کہ ) ذکر کیا جاتا ہے ۔ حدیث 1240–1240 باب: ( مال غنیمت میں ) گھوڑے کا حصہ ( ثابت ہے ) ۔ حدیث 1241–1241 باب: جنگ میں اگر کوئی کسی کی سواری کھینچ کر چلائے ۔ حدیث 1242–1242 باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی ( کا بیان ) ۔ حدیث 1243–1243 باب: جہاد میں عورتوں کا مردوں کے پاس مشکیں بھربھر کر لے جانا ۔ حدیث 1244–1244 باب: عورتیں جہاد میں زخمیوں کی مرہم پٹی اور دوا وغیرہ کر سکتی ہیں ۔ حدیث 1245–1245 باب: اللہ عزوجل کی راہ میں جو جہاد ہو ، اس میں پہرہ دینا ۔ حدیث 1246–1247 باب: جہاد میں ( مجاہدین کی ) خدمت کرنے کا ثواب ۔ حدیث 1248–1249 باب: اللہ کی راہ ( یعنی جہاد ) میں ایک دن مورچہ بند ہو کر رہنے کی فضیلت ۔ حدیث 1250–1250 باب: جس نے لڑائی میں کمزور ( یعنی غریب ) لوگوں اور نیکوں کے ذریعہ سے مدد چاہی ۔ حدیث 1251–1252 باب: تیراندازی ( ہر طرح کی نشانہ بازی ) کی ترغیب دینا ۔ حدیث 1253–1253 باب: ڈھال ( کا بیان ) اور جو شخص اپنے ساتھی کی ڈھال استعمال کرے ۔ حدیث 1254–1255 باب: تلوار پر سونے چاندی کا کام کرانا ( کیسا ہے ؟ ) ۔ حدیث 1256–1256 باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ اور قمیص کا بیان ( جو ) لڑائی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہنتے تھے ۔ حدیث 1257–1257 باب: لڑائی میں ریشمی کپڑا پہننا کیسا ہے ؟ حدیث 1258–1259 باب: جنگ روم کی بابت کیا کہا گیا ہے ؟ حدیث 1260–1260 باب: یہودیوں سے لڑنے کی فضیلت ۔ حدیث 1261–1261 باب: ترکوں سے جنگ کرنے کا بیان ۔ حدیث 1262–1262 باب: مشرکوں ( اور کافروں ) کے لیے بددعا کرنا ، اللہ ان کو شکست دے اور ان پر زلزلہ برپا کر دے ۔ حدیث 1263–1264 باب: مشرکوں کا دل بہلانے کے لیے ، ان کی ہدایت کے لیے دعا کرنا ( درست ہے ) ۔ حدیث 1265–1265 باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں کو اسلام اور ( اپنی ) نبوت کی طرف بلانا اور اس بات کی دعوت دینا کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں ۔ حدیث 1266–1266 باب: جو شخص کسی جہاد کا ارادہ کرے اور لڑائی کا اصل مقام چھپایا ( دوسرا مقام بیان کیا تو یہ درست ) ہے ۔ اور جس شخص نے جمعرات کے دن سفر کو بہتر سمجھا ۔ حدیث 1267–1267 باب: مسافر کا سفر کے وقت رخصت ہونا ۔ حدیث 1268–1268 باب: امام کی بات سننا اور اطاعت کرنا ۔ حدیث 1269–1269 باب: امام کے پیچھے سے جنگ کرنا اور اس کو اپنا بچاؤ بنانا ۔ حدیث 1270–1270 باب: جنگ میں اس بات پر لوگوں سے بیعت لینا کہ فرار نہیں ہوں گے ۔ حدیث 1271–1274 باب: امام کا لوگوں پر اسی بات کو واجب کرنا جس کی وہ طاقت رکھتے ہوں ۔ حدیث 1275–1275 باب: ( اس بات کا بیان کہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اول وقت دن میں نہ لڑتے تھے تو پھر جنگ میں تاخیر کر دیتے تھے یہاں تک کہ آفتاب ڈھل جاتا ۔ حدیث 1276–1276 باب: جو مزدوری لے کر جہاد میں شریک ہو ۔ حدیث 1277–1277 باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کا بیان ۔ حدیث 1278–1278 باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ایک مہینے کی مسافت سے اللہ نے میرا رعب کافروں کے دلوں میں ڈال کر میری مدد کی ۔ حدیث 1279–1279 باب: جہاد میں زادراہ ہمراہ لے جانا ( درست ہے ) اور اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ البقرہ میں یہ ) فرمانا ” اور راستے کا خرچ اپنے ساتھ لے لیا کرو بیشک عمدہ راہ خرچ تقویٰ ہے “ ۔ حدیث 1280–1280 باب: گدھے پر دو آدمیوں کا ایک ساتھ بیٹھنا ۔ حدیث 1281–1282 باب: دشمن کے ملک کی طرف قرآن مجید کے ساتھ سفر کرنا مکروہ ہے ۔ حدیث 1283–1283 باب: بہت چیخ چیخ کر تکبیر کہنا منع ہے ۔ حدیث 1284–1284 باب: جب نشیب میں اترے تو سبحان اللہ کہنا ۔ حدیث 1285–1285 باب: مسافر کو اسی قدر عبادت کا ثواب ملتا ہے جس قدر وہ گھر میں رہ کر کیا کرتا تھا ۔ حدیث 1286–1286 باب: تنہا چلنا ( کیسا ہے ؟ ) ۔ حدیث 1287–1287 باب: ماں باپ کی اجازت لے کر جہاد میں جانا ۔ حدیث 1288–1288 باب: اونٹ کی گردن میں گھنٹی وغیرہ لٹکانا ، جس سے آواز نکلے ( کیسا ہے ؟ ) ۔ حدیث 1289–1289 باب: جو شخص اسلامی لشکر میں اپنا نام لکھوا لے اور اس کی بیوی حج کے لیے جائے یا اور کسی قسم کا عذر ہو تو کیا اس کو ( جہاد میں نہ جانے کی ) اجازت دے دی جائے ؟ حدیث 1290–1290 باب: قیدیوں کو زنجیروں میں باندھنا کیسا ہے ؟ حدیث 1291–1291 باب: دارالحرب والوں پر شب خون مارا جائے تو اگر عورتیں اور بچے سوتے ہوئے قتل ہو جائیں ( تو جائز ہے ) ۔ حدیث 1292–1292 باب: لڑائی میں بچوں کو قتل کر دینا ( جائز نہیں ) ۔ حدیث 1293–1293 باب: اللہ کے عذاب سے کسی کو عذاب نہ دیا جائے ۔ حدیث 1294–1294 باب: ( ( باب ) ) حدیث 1295–1295 باب: گھروں اور باغوں کا جلا دینا ( کیسا ہے ؟ ) ۔ حدیث 1296–1296 باب: لڑائی تو مکر اور فریب سے کی جاتی ہے ۔ حدیث 1297–1298 باب: لڑائی میں جھگڑنے اور اختلاف کرنے کی کراہت اور اس شخص کی سزا جو اپنے امام کی نافرمانی کرے ۔ حدیث 1299–1299 باب: جس شخص نے دشمن کو دیکھ کر بلند آواز سے پکارا کہ ” میں صبح کے وقت لٹ گیا “ تاکہ لوگوں کو سنا دے ۔ حدیث 1300–1300 باب: قیدی کو رہا کروانا اور کر دینا ( کیسا ہے ؟ ) ۔ حدیث 1301–1302 باب: مشرکوں سے فدیہ لینا ( کیسا ہے ؟ ) ۔ حدیث 1303–1303 باب: حربی کافر جب دارالسلام میں بغیر امان کے آ جائے تو اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے ؟ حدیث 1304–1304 باب: دوسرے ممالک کے کافر سفیروں سے سلوک کرنا ۔ کیا ذمی کافروں کی سفارش کر سکتے ہیں ؟ اور کافروں ، ذمیوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائے ؟ حدیث 1305–1305 باب: بچے پر اسلام کس طرح پیش کیا جائے ؟ حدیث 1306–1306 باب: امام کا لوگوں کے نام لکھنا ( کیسا ہے ؟ ) حدیث 1307–1307 باب: جو شخص دشمن پر غالب ہونے کے بعد تین دن تک ان کے میدان میں ٹھہرا رہا ۔ حدیث 1308–1308 باب: جب مشرک مسلمان کا مال لوٹ لیں اس کے بعد مسلمان اسے حاصل کر لیں ۔ حدیث 1309–1309 باب: جس شخص نے فارسی زبان میں یا کسی اور غیر عربی زبان میں کلام کیا اور اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ الروم میں یہ ) فرمانا ” اور تمہارے رنگ اور زبانوں کا اختلاف ہے “ ۔ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ہر زبان میں کلام کرنا جائز ہے ۔ اور ( سورۃ ابراہیم میں ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی قوم کی اپنی زبان میں ۔ حدیث 1310–1311 باب: غنیمت میں خیانت کرنا ( سخت گناہ ہے ) اور اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ آل عمران میں یہ ) فرمانا ” اور جو شخص خیانت کرے گا ، قیامت کے دن اس چیز کو ( اپنی گردن پر لاد کر ) لائے گا جس کی اس نے خیانت کی ہے “ ۔ حدیث 1312–1312 باب: غنیمت میں تھوڑی سی خیانت کرنا ۔ حدیث 1313–1313 باب: غازیوں کے استقبال کے لیے جانا ( مسنون ہے ) ۔ حدیث 1314–1315 باب: جہاد سے لوٹتے وقت کیا کہنا چاہیے ؟ حدیث 1316–1316 باب: جب سفر سے لوٹے تو نماز پڑھنا ( مسنون ہے ) ۔ حدیث 1317–1317 اس باب کی تمام احادیث ❮ پچھلا باب اگلا باب ❯