کتب حدیثمختصر صحيح بخاريابوابباب: غلہ فروخت اور ذخیرہ کرنے کے بارے میں کیا بیان کیا جاتا ہے ؟
حدیث نمبر: 1017
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں غلہ کو ناپ تول کے بغیر فروخت کرتے تھے ، میں نے دیکھا کہ ان کو مارا جاتا تھا اس لیے کہ جب تک وہ اس ( غلہ و اناج ) کو اپنے گھروں ( گوداموں اور دوسرے ٹھکانوں ) میں نہ لے جائیں تب تک فروخت نہ کریں ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 1017
حدیث نمبر: 1018
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص غلہ کی فروخت کرے قبل اس کے کہ اس پر قبضہ کیا ہو ( یعنی اس کے اسٹور ، دکان ، گودام وغیرہ میں نہ پہنچ جائے ) ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ یہ ( ممانعت ) کس وجہ سے ہے ؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ یہ تو روپے کو روپے کے عوض بیچنا ہے کیونکہ غلہ تو اس وقت نہیں دیا جاتا ( جب تک وہ اپنے اسٹور ، گودام یا دکان وغیرہ میں نہ آ جائے ) ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 1018
حدیث نمبر: 1019
ابوعبداللہ آصف
´امیرالمؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سونا ، سونے کے عوض ، گندم ، گندم کے عوض ، کھجور ، کھجور کے عوض اور جو ، جو کے عوض فروخت کرنا سود ہے مگر برابر برابر اور ہاتھوں ہاتھ ہو تو درست ہے ۔ ( یاد رہے کہ 24 قیراط سونا 22 قیراط کے عوض برابر وزن میں فروخت کرنا بھی سود ہے )
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 1019