کتب حدیث ›
مختصر صحيح بخاري › ابواب
› باب: اگر کوئی شخص اپنے بھائی کو نفل روزہ توڑنے کے لیے قسم دلائے تو .... ؟
حدیث نمبر: 957
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سلمان اور سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارا کر دیا تھا ۔ اس وجہ سے ( ایک دن ) سلمان ، ابوالدرداء ( رضی اللہ عنہ ) سے ملاقات کو گئے تو انھوں نے ام الدرداء کو بہت خستہ حالت میں پایا اور ان سے کہا کہ تمہارا کیا حال ہے ؟ وہ بولیں کہ تمہارے بھائی ابوالدرداء کو اب دنیا کی کچھ ضرورت نہیں رہی ۔ اتنے میں ابوالدرداء بھی آ گئے اور انھوں نے سلمان کے لئے کھانا تیار کیا اور ( سلمان سے ) کہا کہ تم کھاؤ میں تو روزہ دار ہوں سلمان نے جواب دیا کہ میں نہیں کھاؤں گا تاوقتیکہ تم بھی کھاؤ ۔ بالآخر ابوالدرداء نے ( روزہ توڑ دیا اور سلمان کے ساتھ ) کھانا کھایا ۔ پھر جب رات ہوئی تو ابوالدرداء نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے ۔ سلمان نے کہا کہ ابھی سو جاؤ چنانچہ وہ سو گئے پھر تھوڑی دیر کے بعد وہ اٹھنے لگے تو سلمان نے کہا کہ ابھی سو جاؤ ۔ پھر جب اخیر رات ہوئی تو سلمان نے کہا کہ اب اٹھو ! چنانچہ دونوں نے نماز پڑھی پھر ابوالدرداء سے سلمان نے کہا کہ بیشک تمہارے پروردگار کا بھی تم پر حق ہے ، تمہاری جان کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے پس تم ہر صاحب حق کا حق ادا کرو ۔ پھر ابوالدرداء نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ تمام ( واقعہ ) بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سلمان نے سچ کہا ۔ “ ( رضوان اللہ علیہ اجمعین )