کتب حدیثمختصر صحيح بخاريابوابباب: مزدلفہ میں فجر کس وقت پڑھے ؟
حدیث نمبر: 836
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` وہ سب لوگوں کے ہمراہ مزدلفہ گئے پس ( وہاں ) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے دو نمازیں ایک ساتھ پڑھیں ( مغرب اور عشاء کی ) ۔ ہر نماز کے صرف فرض پڑھے ، اذان و اقامت کے ساتھ اور دونوں نمازوں کے درمیان کھانا کھایا ۔ اس کے بعد جب صبح کا آغاز ہوا تو فوراً فجر کی نماز پڑھ لی ۔ اس وقت ایسا اندھیرا تھا کہ کوئی تو کہتا تھا کہ فجر ہو گئی اور کوئی کہتا تھا کہ ابھی فجر نہیں ہوئی ۔ نماز سے فراغت پانے کے بعد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” یہ دونوں نمازیں اس مقام یعنی مزدلفہ میں اپنے وقت سے ہٹا دی گئی ہیں مغرب اور عشاء ۔ پس لوگوں کو چاہیے کہ جب تک عشاء کا وقت نہ ہو جائے مزدلفہ میں نہ آئیں اور فجر کی نماز صبح صبح اسی وقت پڑھیں ۔ “ پھر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما ٹھہر گئے یہاں تک کہ خوب سفیدی پھیل گئی ۔ اس کے بعد کہا کہ اگر امیرالمؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ اب منیٰ کی طرف چل دیتے تو سنت کے موافق کرتے ( امیرالمؤمنین رضی اللہ عنہ نے کوچ کر دیا تو راوی عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ) میں نہیں جانتا کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کا قول پہلے ہوا یا امیرالمؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا کوچ پہلے ہوا ۔ پھر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما برابر تلبیہ کرتے رہے یہاں تک کہ قربانی کے دن جمرۃ العقبہ کو کنکریاں ماریں ۔ ( اس وقت تلیبہ موقوف کر دیا ) ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 836