کتب حدیثمختصر صحيح بخاريابوابباب: عشر حاصل کرنے کے لیے پکنے سے پہلے کھجوروں کا اندازہ کر لینا ۔
حدیث نمبر: 754
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نے غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد کیا ہے پس جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( مقام ) وادی قریٰ میں پہنچے تو ( کیا دیکھتے ہیں کہ ) ایک عورت اپنے باغ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : ” اندازہ لگاؤ ( اس کے باغ میں کس قدر کھجوریں ہیں ) ۔ “ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس وسق اندازہ کیے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” خیال رکھو کہ اس میں سے کس قدر کھجوریں نکلتی ہیں “ پھر جب ہم ( مقام ) تبوک میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آج رات کو سخت آندھی چلے گی لہٰذا کوئی شخص کھڑا نہ ہو اور جس کے ہمراہ اونٹ ہو وہ اسے باندھ دے ۔ “ چنانچہ ہم لوگوں نے اونٹوں کو باندھ دیا اور سخت آندھی چلی ۔ ایک شخص ( اتفاق سے ) کھڑا ہو گیا اس کو آندھی نے طییء ( نامی ) پہاڑ پر پھینک دیا اور ( اسی جنگ میں ملک ) ایلہ کے بادشاہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک سفید خچر بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوڑھنے کے لیے ایک چادر بھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو وہاں کے ملک پر برقرار رکھا پھر جب ( اختتام جنگ کے بعد ) لوٹے اور وادی قریٰ میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے دریافت فرمایا : ” تمہارے باغ میں کس قدر کھجور پیدا ہوئی ؟ “ تو اس نے عرض کی کہ دس وسق ، یہی اندازہ فرمایا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں مدینہ جلد پہنچنا چاہتا ہوں لہٰذا تم میں سے جو شخص بہ عجلت میرے ہمراہ چل سکے وہ جلدی کرے ۔ “ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ دکھائی دینے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ ” طابہ “ آ گیا پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کو دیکھا تو فرمایا : ” یہ وہ پہاڑ ہے جو ہمیں دوست رکھتا ہے اور ہم اسے دوست رکھتے ہیں ۔ کیا میں تم لوگوں کو انصار کے گھروں میں سے اچھے گھروں کی خبر دوں ؟ “ صحابہ نے عرض کی کہ ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بنی نجار کے گھر پھر بنی عبدالاشہل کے گھر پھر ساعدہ کے گھر یا ( یہ فرمایا کہ ) بنی حارث بن خزرج کے گھر اور ( یہ گھر بہت زیادہ اچھے ہیں ورنہ یوں تو ) انصار کے سب گھروں میں اچھائی ہے ۔ “
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 754