حدیث نمبر: 718
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( گزشتہ دور میں ) ایک شخص نے ( اپنے دل میں ) کہا کہ ( آج شب کو ) میں کچھ صدقہ دوں گا چنانچہ وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اسے ( نادانستگی میں ) ایک چور کے ہاتھ میں رکھ دیا تو صبح کو لوگوں نے چرچا کیا کہ ( دیکھو آج رات کو ) ایک چور کو خیرات دی گئی ہے تو اس شخص نے کہا کہ اے اللہ ! تمام تعریف تیرے ہی لیے ہے ، میں ( آج رات پھر ) صدقہ دوں گا ۔ چنانچہ وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اس کو اس نے ( نادانستگی میں ) ایک زانیہ کے ہاتھ میں رکھ دیا تو صبح کو لوگوں نے چرچا کیا کہ دیکھو آج شب ایک زانیہ کو خیرات دی گئی ہے ۔ اس شخص نے کہا کہ اے اللہ تمام تعریف تیرے ہی لیے ہے میرا صدقہ تو زانیہ کے ہاتھ لگ گیا ، اچھا میں ( آج پھر ضرور ) کچھ صدقہ دوں گا ۔ چنانچہ وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور ( نادانستگی میں ) اس نے وہ صدقہ ایک مالدار کے ہاتھ میں رکھ دیا تو لوگوں نے صبح کو چرچا کیا کہ دیکھو آج شب مالدار کو خیرات دی گئی ۔ اس شخص نے کہا کہ اے اللہ ! حمد تیرے ہی لیے ہے ، میں اپنا مال ( لاعلمی میں ) چور ، فاحشہ اور مالدار کو دے آیا ۔ تو اس کے پاس کوئی ( اللہ کا ) فرستادہ آیا اور اس سے کہا کہ ( تو ) رنجیدہ مت ہو ، تجھے تیری خیرات کا ثواب ملے گا اور جن لوگوں کو تو نے دیا ہے انہیں بھی فائدہ ہو گا ممکن ہے چور کو تیرا خیرات دینا ( اس کے حق میں یہ فائدہ دے گا کہ ) شاید وہ چوری سے باز رہے اور زانیہ ! ممکن ہے کہ وہ حرکت زنا سے رک جائے اور شاید مالدار عبرت حاصل کرے اور جو کچھ اللہ عزوجل نے اسے دیا ہے وہ اس میں سے ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرنے لگے ۔ “