کتب حدیثمختصر صحيح بخاريابوابباب: جس شخص نے ایک گوشہ میں بحالت تنہائی برہنہ ہو کر غسل کیا ۔
حدیث نمبر: 197
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بنی اسرائیل برہنہ غسل کیا کرتے تھے ، ایک دوسرے کی طرف دیکھا کرتے تھے اور موسیٰ علیہ السلام تنہا غسل کیا کرتے تھے تو بنی اسرائیل نے کہا کہ واللہ ! موسیٰ علیہ السلام کو ہم لوگوں کے ہمراہ غسل کرنے سے سوا اس کے کچھ مانع نہیں کہ وہ فتق ( ایک قسم کی مردانہ بیماری ) میں مبتلا ہیں ۔ اتفاق سے ایک دن موسیٰ علیہ السلام غسل کرنے لگے اور اپنا لباس پتھر پر رکھ دیا ، وہ پتھر ان کا لباس لے کر بھاگا اور موسیٰ علیہ السلام بھی اس کے تعاقب میں یہ کہتے ہوئے دوڑے کہ اے پتھر ! میرے کپڑے دیدے اے حجر میرے کپڑے دیدے ۔ یہاں تک کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف دیکھ لیا اور کہا کہ واللہ موسیٰ علیہ السلام کو کچھ بیماری نہیں ہے اور ( پتھر ٹھہر گیا ) موسیٰ علیہ السلام نے اپنا لباس لے لیا اور پتھر کو مارنے لگے ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! ( موسیٰ علیہ السلام کی ) مار سے ( اس ) پتھر پر چھ یا سات نشان ( اب تک باقی ) ہیں ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 197
حدیث نمبر: 198
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ` آپ نے فرمایا : ” اس حال میں کہ ایوب علیہ السلام برہنہ نہا رہے تھے ، ان پر سونے کی ٹڈیاں برسنے لگیں تو ایوب علیہ السلام ان کو اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے تو انھیں ان کے پروردگار نے آواز دی کہ اے ایوب علیہ السلام ! کیا میں نے تمہیں اس ( سونے کی ٹڈی ) سے جو تم دیکھ رہے ہو بےنیاز نہیں کر دیا ؟ انھوں نے کہاں ہاں قسم تیری بزرگی کی ( تو نے مجھے بےنیاز کر دیا ہے ) لیکن میں تیری برکت ( کے حصول ) سے بےپرواہ و بےنیاز نہیں ۔ “
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 198