کتب حدیثمختصر صحيح بخاريابوابباب: اس بات کو برا سمجھ کر کہ وہ لوگ نہ سمجھیں گے جس شخص نے ایک قوم کو چھوڑ کر دوسری قوم کو علم ( کی تعلیم ) کے لیے مخصوص کر لیا ۔
حدیث نمبر: 105
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حال میں کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے ۔ فرمایا : ” اے معاذ بن جبل ! “ انھوں نے عرض کی حاضر ہوں یا رسول اللہ ! اور مستعد ہوں ۔ ( پھر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” اے معاذ “ ! انھوں نے عرض کی حاضر ہوں یا رسول اللہ ! اور مستعد ہوں ۔ ( پھر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے معاذ ! “ انھوں نے عرض کی کہ حاضر ہوں یا رسول اللہ ! اور مستعد ہوں ۔ ” تین مرتبہ ( ایسا ہی ہوا ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی اپنے سچے دل سے اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں “ تو اللہ اس پر ( دوزخ کی ) آگ حرام کر دیتا ہے ۔ “ معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ ! کیا میں لوگوں کو اس کی خبر کر دوں تاکہ وہ ( بھی ) خوش ہو جائیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس وقت ( جب تم ان کو خبر کرو گے ) تو لوگ ( اسی پر ) بھروسہ کر لیں گے ( اور عمل سے باز رہیں گے ) ۔ “ اور معاذ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث اپنی موت کے وقت ( علم کو چھپانے کے ) گناہ خوف سے بیان کر دی ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 105