باب: علم کی فضیلت کا بیان ۔
حدیث 54–54
باب: جو شخص علم ( کو بیان کرنے ) میں اپنی آواز بلند کرے ۔
حدیث 55–55
باب: امام کا اپنے ساتھیوں کی علمی آزمائش کے لیے سوال کرنا ۔
حدیث 56–56
باب: ( حدیث کا خود ) پڑھنا اور ( پڑھ کر ) محدث کو سنانا ۔
حدیث 57–57
باب: ” المناولہ “ کے بارے میں اور اہل علم کا علم یا علم کی باتیں لکھ کر شہر والوں کو دے دینا ۔
حدیث 58–60
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ بسا اوقات وہ شخص جسے ( بالواسطہ ) حدیث پہنچائی جائے ، ( براہ راست ) سننے والے کی بہ نسبت زیادہ یاد رکھنے والا ہوتا ہے ۔
حدیث 61–61
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں کے وعظ اور علم کے لیے وقت اور موقع کا لحاظ رکھنا ( ہر وقت اس طرف مشغول نہ رکھنا ) تاکہ وہ بیزار نہ ہو جائیں ۔
حدیث 62–63
باب: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے ۔
حدیث 64–64
باب: ( حصول ) علم میں سمجھداری ( بہت اعلیٰ چیز ہے ) ۔
حدیث 65–65
باب: علم اور حکمت میں غبطہٰ ( رشک ) کرنا ( درست ہے ) ۔
حدیث 66–66
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ ” اے اللہ ! اس کو کتاب ( قرآن ) کا علم ( فہم و فراست ) عنایت فرما ۔
حدیث 67–67
باب: لڑکے کا سماع حدیث کس ( کتنی ) عمر سے درست ہے ؟
حدیث 68–69
باب: اس شخص کی فضیلت ( کا بیان ) جو ( دین کا علم ) پڑھے اور ( دوسروں کو ) پڑھائے ۔
حدیث 70–70
باب: علم کا اٹھ جانا اور جہالت کا ظاہر ہونا ۔
حدیث 71–72
باب: علم کی فضیلت ( کا بیان ) ۔
حدیث 73–73
باب: فتویٰ دینا اس حالت میں کہ ( فتویٰ دینے والا ) سواری پر سوار یا اور کسی چیز پر کھڑا ہو ۔
حدیث 74–74
باب: جس شخص نے ہاتھ یا سر کے اشارے سے فتویٰ کا جواب دیا ۔
حدیث 75–76
باب: جو مسئلہ درپیش ہو اس ( کی تحقیق ) میں سفر کرنا اور اپنے اہل خانہ کو اس علم کا سکھانا ۔
حدیث 77–77
باب: علم کے حاصل کرنے میں باری مقرر کرنا ۔
حدیث 78–78
باب: جب ( ناصح و معلم ) کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے تو غضبناک انداز میں نصیحت و تلقین کر سکتا ہے ۔
حدیث 79–81
باب: جس شخص نے ایک بات کی تین مرتبہ تکرار کی تاکہ خوب سمجھ لی جائے ۔
حدیث 82–82
باب: مرد کا اپنی لونڈی اور اپنے گھر والوں کو تعلیم دینا ۔
حدیث 83–83
باب: امام کا عورتوں کو نصیحت کرنا اور ان کو تعلیم دینا ۔
حدیث 84–84
باب: حدیث ( نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے سننے ) پر حرص کرنا ۔
حدیث 85–85
باب: ( قیامت کے قریب ) علم کس طرح اٹھا لیا جائے گا ؟
حدیث 86–86
باب: کیا ( صرف ) عورتوں کی تعلیم کے لیے کوئی دن مقرر کیا جا سکتا ہے ؟
حدیث 87–87
باب: جس نے کوئی بات سنی اور سمجھ نہ سکا پھر اس نے دوبارہ پوچھا تاکہ اسے سمجھ لے ۔
حدیث 88–88
باب: جو شخص ( محفل میں ) موجود ہو ، وہ علمی بات غیرحاضر لوگوں تک پہنچا دے ۔
حدیث 89–89
باب: اس شخص کا گناہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت جھوٹ بولے ۔
حدیث 90–92
باب: علم ( کی باتوں ) کا لکھنا ( بدعت نہیں ہے ) ۔
حدیث 93–94
باب: رات کے وقت تعلیم و تلقین ( درست ہے ) ۔
حدیث 95–95
باب: رات کو علم کی باتیں کرنا ( ناجائز نہیں ) ۔
حدیث 96–97
باب: علم ( کی باتوں ) کا یاد کرنا ( نہایت ضروری ہے ) ۔
حدیث 98–100
باب: علماء ( کی باتیں سننے ) کے لیے چپ رہنا ( چاہیے ) ۔
حدیث 101–101
باب: عالم کو کیا چاہیے کہ جب کہ اس سے پوچھا جائے کہ تم لوگوں میں زیادہ جاننے والا ( عالم ) کون ہے ؟ تو وہ علم کی نسبت اللہ کی طرف کر دے ۔
حدیث 102–102
باب: جس شخص نے کھڑے ہو کر کسی بیٹھے ہوئے عالم سے ( کوئی مسئلہ ) دریافت کیا ۔
حدیث 103–103
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ” اور تمہیں بہت ہی کم علم دیا گیا ہے ۔ “ ( سورۃ بنی اسرائیل : 75 ) ۔
حدیث 104–104
باب: اس بات کو برا سمجھ کر کہ وہ لوگ نہ سمجھیں گے جس شخص نے ایک قوم کو چھوڑ کر دوسری قوم کو علم ( کی تعلیم ) کے لیے مخصوص کر لیا ۔
حدیث 105–105
باب: علم میں شرمانا ( بری بات ہے ) ۔
حدیث 106–106
باب: جو شخص خود شرمائے اور دوسرے کو ( مسئلہ ) پوچھنے کا حکم دے ۔
حدیث 107–107
باب: مسجد میں علم کا ذکر کرنا اور فتویٰ صادر کرنا ۔
حدیث 108–108
باب: جو شخص سائل کو اس سے کہیں زیادہ بتا دے جس قدر اس نے پوچھا ہے ۔
حدیث 109–109
اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔