کتب حدیثمختصر صحيح بخاريابوابباب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ” اور تمہیں بہت ہی کم علم دیا گیا ہے ۔ “ ( سورۃ بنی اسرائیل : 75 ) ۔
حدیث نمبر: 104
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` اس حالت میں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ کے کھنڈروں میں چل رہا تھا اور آپ کھجور کی ایک چھڑی کو ( زمین ) پر ٹکا کر چل رہے تھے کہ اتنے میں یہود کے کچھ لوگوں کے پاس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے ، تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کی بابت سوال کرو ۔ اس پر بعض نے کہا کہ نہ پوچھو ، ایسا نہ ہو کہ اس کے جواب میں آپ کوئی ایسی بات کہہ دیں جو تمہیں ناگوار لگے ۔ پھر بعض نے کہا کہ ہم تو ضرور پوچھیں گے ۔ چنانچہ ان میں سے ایک شخص کھڑا ہو گیا کہ اور کہنے لگا کہ اے ابوالقاسم ! روح کیا چیز ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت فرمایا ۔ ( ابن مسعود رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ) میں نے ( اپنے دل میں ) کہا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے ۔ لہٰذا میں کھڑا ہو گیا ۔ پھر جب وہ کیفیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور ہوئی تو آپ نے فرمایا : ” اور یہ لوگ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے روح کی بابت سوال کرتے ہیں ، تو آپ انھیں جواب دیجئیے کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے ۔ اور تمہیں بہت ہی کم علم دیا گیا ہے ۔ “
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 104