حدیث نمبر: 93
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے مکہ سے فیل ( ہاتھیوں کے لشکر ) کو یا قتل کو روک لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین کو ان پر غالب کر دیا ۔ آگاہ رہو مکہ ( میں قتال کرنا ) نہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال ہوا ہے اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا ۔ آگاہ رہو وہ میرے لیے ایک گھڑی بھر دن میں حلال ہو گیا تھا ، آگاہ رہو ( اب ) وہ اس وقت حرام ہے ۔ اس کا کاٹنا نہ توڑا جائے اور اس کا درخت نہ کاٹا جائے اور اس کی گری ہوئی چیز سوائے اعلان کرنے والے کے کوئی نہ اٹھائے ( یعنی جو اس کے اصل مالک کو ڈھونڈے اور یہ چیز اس کے حوالے کرے ) اور جس کسی کا کوئی ( عزیز ) قتل کیا جائے تو اسے ( ان ) دو صورتوں میں سے ایک کا اختیار ہے یا اس کو دیت دلا دی جائے یا قصاص لیا جائے ( قاتل مقتول کے ورثاء کے حوالے کیا جائے ) ۔ “ اتنے میں ایک شخص اہل یمن میں سے آ گیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ! ( یہ خطبہ ) میرے لیے لکھ دیجئیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابوفلاں کے لیے لکھ دو ۔ “ پھر قریش کے ایک شخص نے کہا کہ ( یا رسول اللہ ! ) اذخر ( گھاس ) کے سوا ( اور چیزوں کے کاٹنے کی ممانعت فرمائیے اور اذخر کی ممانعت نہ فرمائیے ) اس لیے کہ ہم اس کو اپنے گھروں اور قبروں میں لگاتے ہیں ، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( ہاں ) اذخر کے سوا ( اور اشیاء کاٹنے کی ممانعت ہے ) ۔ “
حدیث نمبر: 94
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض سخت ہو گیا تو آپ نے فرمایا : ” میرے پاس لکھنے کی چیزیں لاؤ تاکہ میں تمہارے لیے ایک نوشتہ لکھ دوں کہ اس کے بعد پھر تم گمراہ نہ ہو گے ۔ “ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر مرض غالب ہے ( طبیعت انتہائی ناساز ہے ) اور چونکہ ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب موجود ہے تو وہی ہمیں کافی ہے ۔ پھر صحابہ رضی اللہ عنہم نے اختلاف کیا یہاں تک کہ شور بہت ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے پاس سے اٹھ جاؤ اور میرے پاس تنازع ( کھڑا ) کرنے کا کیا کام ؟ “