کتب حدیثمختصر صحيح بخاريابوابباب: کیا ( صرف ) عورتوں کی تعلیم کے لیے کوئی دن مقرر کیا جا سکتا ہے ؟
حدیث نمبر: 87
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` عورتوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ ( آپ سے فائدہ اٹھانے میں ) مرد ہم سے آگے بڑھ گئے ہیں ، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی دن ( برائے وعظ ) مقرر فرما دیجئیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کسی دن کا وعدہ کر لیا ۔ چنانچہ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے اور انھیں نصیحت فرمائی اور ( ان کے مناسب حال عبادت کا ) انھیں حکم دیا ، منجملہ اس کے جو آپ نے ( ان سے ) فرمایا ، یہ تھا کہ جو عورت تم میں سے اپنے تین لڑکے آگے بھیج دے گی ( یعنی اس کے تین لڑکے اس کے سامنے مر جائیں گے ) تو وہ اس کے لیے ( دوزخ کی ) آگ سے حجاب ( آڑ ) ہو جائیں گے ۔ “ ایک عورت بولی اور ( اگر کوئی ) دو ( لڑکے آگے بھیجے ؟ ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اور دو ( کا بھی یہی حکم ہے ) اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ تین لڑکے ( ایسے ہوں ) جو بلوغت ( کی عمر ) کو نہ پہنچے ہوں ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 87