کتب حدیث ›
مختصر صحيح بخاري › ابواب
› باب: جب ( ناصح و معلم ) کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے تو غضبناک انداز میں نصیحت و تلقین کر سکتا ہے ۔
حدیث نمبر: 79
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے ( آ کر ) کہا کہ یا رسول اللہ ! میں عنقریب نماز ( جماعت کے ساتھ ) نہ پا سکوں گا ۔ کیونکہ فلاں شخص ہمیں بہت طویل نماز پڑھاتا ہے ۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نصیحت کرنے میں اس دن سے زیادہ کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ میں نہیں دیکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے لوگو ! تم ( ایسی سختیاں کر کر کے لوگوں کو دین سے ) نفرت دلانے والے ہو ( دیکھو ؟ ) جو کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے اسے چاہیے کہ ( ہر رکن کے ادا کرنے میں ) تخفیف کرے ، اس لیے کہ مقتدیوں میں مریض بھی اور کمزور بھی ہیں اور ضرورت والے بھی ۔ “
حدیث نمبر: 80
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے گری پڑی ( لاوارث ) چیز کا حکم پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کی بندش کو پہچان لے ۔ “ یا یہ فرمایا : ” اس کے ظرف کو اور اس کو تھیلی کو ( پہچان لے ) پھر سال بھر اس کی تشہیر کرے ( یعنی اس کے اصل مالک کو تلاش کرے ) پھر اس کے بعد ( اگر کوئی مالک اس کا نہ ملے تو ) اس سے فائدہ اٹھا لے اور اگر اس کا مالک ( سال بعد بھی ) آ جائے تو اسے اس کے حوالے کر دے ۔ “ پھر اس شخص نے کہا کہ کھویا ہوا اونٹ ( اگر ملے تو اس کو کیا کیا جائے ) ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غضبناک ہوئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں رخسار مبارک سرخ ہو گئے یا ( راوی نے کہا کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تجھے اس اونٹ سے کیا مطلب ؟ اس کی مشک اور اس کا پاپوش اس کے ساتھ ہے ، پانی پر پہنچے گا ( تو پانی پی لے گا ) اور درخت ( کے پتے ) کھا لے گا ، لہٰذا اسے چھوڑ دے ، یہاں تک کہ اس کو اس کا مالک مل جائے ۔ “ پھر اس شخص نے کہا کہ کھوئی ہوئی بکری ( کا پکڑ لینا کیسا ہے ) ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( اس کو پکڑ لو کیونکہ وہ ) تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی یا ( اگر کسی کے ہاتھ نہ لگی تو ) پھر بھیڑیئے کی ۔ “
حدیث نمبر: 81
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ( ایک مرتبہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے چند باتیں پوچھی گئیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مزاج تھیں ۔ ( تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہ دیا مگر ) جب ( ان سوالات کی ) آپ کے سامنے بھرمار کر دی گئی تو آپ کو غصہ آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کچھ چاہو مجھ سے پوچھ لو ۔ “ تو ایک شخص نے کہا کہ میرا باپ کون ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تیرا باپ حذافہ ہے ۔ “ پھر دوسرا شخص کھڑا ہو اور اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! میرا باپ کون ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : ” تیرا باپ سالم ہے ، شیبہ کا غلام ۔ “ پھر جب عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر آثار غضب دیکھے تو انھوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! ہم اللہ بزرگ و برتر سے توبہ کرتے ہیں ( یعنی اب کبھی اس قسم کے سوالات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ کریں گے ) ۔