کتب حدیثمختصر صحيح بخاريابوابباب: علم کے حاصل کرنے میں باری مقرر کرنا ۔
حدیث نمبر: 78
ابوعبداللہ آصف
´امیرالمؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` میں اور ایک انصاری میرا پڑوسی بنی امیہ بن زید ( کے محلہ ) میں رہتے تھے اور یہ ( مقام ) مدینہ کی بلندی پر تھا اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس باری باری آتے تھے ۔ ایک دن وہ آتا تھا اور ایک دن میں ۔ جس دن میں آتا تھا ، اس دن کی خبر یعنی وحی وغیرہ ( کے حالات ) میں اس کو پہنچا دیتا اور جس دن وہ آتا تھا ، وہ بھی ایسا ہی کرتا تھا ، تو ایک دن اپنی باری سے میرا انصاری دوست ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری دے کر واپس ) آیا تو میرے دروازہ کو بہت زور سے کھٹکھٹایا اور ( میرا نام لے کر ) کہا کہ وہ یہاں ہیں ؟ میں ( ان اضطرابی حرکات سے ) ڈر گیا اور ان کے پاس نکل ( کر ) آیا تو وہ بولے کہ ( آج ) ایک بڑا واقعہ ہو گیا ہے ( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے ) میں حفصہ ( ام المؤمنین رضی اللہ عنہا ) کے پاس گیا تو وہ رو رہی تھیں ، میں نے ان سے کہا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم لوگوں کو طلاق دے دی ہے ؟ وہ بولیں کہ مجھے نہیں معلوم ۔ اس کے بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور کھڑے ہی کھڑے میں نے عرض کی کہ کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ۔ “ میں نے ( اس وقت نہایت تعجب میں آ کر ) کہا : ” اللہ اکبر ۔ “ ( انصاری کو کیسی غلط فہمی ہوئی ؟ ) ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 78