کتب حدیثمختصر صحيح بخاريابوابباب: جس شخص نے ہاتھ یا سر کے اشارے سے فتویٰ کا جواب دیا ۔
حدیث نمبر: 75
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( عنقریب ) علم اٹھا لیا جائے گا اور جہالت اور فتنے غالب ہو جائیں گے اور ہرج بہت ہو گا ۔ “ عرض کی گئی یا رسول اللہ ! ہرج کیا چیز ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے ترچھا اشارہ کر کے فرمایا : ” اس طرح ! گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ( ہرج سے ) قتل تھی ۔ “
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 75
حدیث نمبر: 76
ابوعبداللہ آصف
´سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور وہ نماز پڑھ رہی تھیں ، تو میں نے ( ان سے ) کہا کہ لوگوں کا کیا حال ہے ( کیوں اس قدر گھبرا رہے ہیں ) ؟ تو انھوں نے آسمان کی طرف اشارہ کیا ( کہ دیکھو آفتاب میں کسوف ( سورج گرہن ) ہے ) ۔ پھر اتنے میں سب لوگ ( نماز کسوف کے لیے ) کھڑے ہو گئے ، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا سبحان اللہ ۔ میں نے پوچھا کہ ( یہ کسوف کیا ) کوئی نشانی ہے ؟ انھوں نے اپنے سر سے اشارہ کیا کہ ہاں ۔ پھر میں بھی ( نماز کے لیے ) کھڑی ہو گئی ، یہاں تک کہ مجھ پر غشی طاری ہو گئی تو میں اپنے سر پر پانی ڈالنے لگی ۔ پھر ( جب نماز ختم ہو چکی اور کسوف جاتا رہا ) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا : ” جو چیز ( اب تک ) مجھے نہ دکھائی گئی تھی ، اسے میں نے ( اس وقت ) اپنی اسی جگہ میں ( کھڑے کھڑے ) دیکھ لیا ۔ یہاں تک کہ جنت اور دوزخ کو ( بھی ) ۔ اور میری طرف یہ وحی بھیجی گئی کہ اپنی قبروں میں تمہاری آزمائش ہو گی ۔ مسیح دجال کی آزمائش کے مثل یا اسی کے قریب قریب ۔ ( فاطمہ ( راویہ حدیث ) کہتی ہیں کہ مجھے یاد نہیں اسماء رضی اللہ عنہا نے ان دونوں لفظوں میں سے کیا کہا تھا ) کہا جائے گا کہ تجھے اس شخص سے کیا واقفیت ہے ؟ تو اگر مومن ہے یا موقن ، فاطمہ کہتی ہیں کہ مجھے یاد نہیں اسماء رضی اللہ عنہا نے ان دونوں میں سے کیا کہا تھا ) وہ کہے گا کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اللہ کے پیغمبر ۔ ہمارے پاس معجزات اور ہدایت لے کر آئے تھے ، لہٰذا ہم نے ان کی بات مانی اور ان کی پیروی کی اور وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ( یہ کلمہ ) تین مرتبہ ( کہے گا ) ۔ پس اس سے کہہ دیا جائے گا کہ تو آرام سے سوتا رہ ۔ بیشک ہم نے جان لیا کہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتا ہے ۔ لیکن منافق یا شک کرنے والا فاطمہ کہتی ہیں کہ مجھے یاد نہیں کہ اسماء رضی اللہ عنہا نے ان دونوں لفظوں میں سے کیا کہا تھا ، کہے گا میں ( حقیقت تو ) نہیں جانتا ( مگر ) میں نے لوگوں کو ان کی نسبت کچھ کہتے ہوئے سنا چنانچہ میں نے بھی وہی کہہ دیا ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 76