کتب حدیثمختصر صحيح بخاريابوابباب: ( حدیث کا خود ) پڑھنا اور ( پڑھ کر ) محدث کو سنانا ۔
حدیث نمبر: 57
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک دفعہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ایک شخص اونٹ پر ( سوار ) آیا اور اس نے اپنے اونٹ کو مسجد میں ( لا کر ) بٹھا کر اس کے پاؤں باندھ دیے پھر اس نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے دریافت کیا تم میں سے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کون ہیں ؟ اور ( اس وقت ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کے درمیان تکیہ لگائے بیٹھے تھے ، تو ہم لوگوں نے کہا یہ مرد صاف رنگ تکیہ لگائے ہوئے ( جو بیٹھے ہیں انہی کا نام نامی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے ) ۔ پھر اس شخص نے آپ سے کہا کہ اے عبدالمطلب کے بیٹے ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( کہہ ) میں سن رہا ہوں ۔ اس نے کہا کہ میں آپ سے ( کچھ ) پوچھنے والا ہوں اور ( پوچھنے میں ) آپ پر سختی کروں گا تو آپ اپنے دل میں میرے اوپر ناخوش نہ ہونا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو تیری سمجھ میں آئے پوچھ لے ۔ وہ بولا کہ میں آپ کو آپ کے پروردگار اور آپ سے پہلے لوگوں کے پروردگار کی قسم دے کر پوچھتا ہوں ( سچ بتائیے ) کہ کیا اللہ نے آپ کو تمام آدمیوں کی طرف ( پیغمبر بنا کر ) بھیجا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! ہاں ( بیشک مجھے پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہے ) ۔ پھر اس نے کہا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ( سچ بتائیے ) کیا دن رات میں پانچ نمازوں کے پڑھنے کا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی قسم ! ہاں ۔ پھر اس نے کہا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ( سچ بتائیے ) کیا اس مہینے ( یعنی رمضان ) کے روزے رکھنے کا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی قسم ! ہاں ۔ پھر اس نے کہا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ( سچ بتائیے ) کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ یہ صدقہ ہمارے مالداروں سے لیں اور اسے ہمارے مستحقین پر تقسیم کریں ؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی قسم ! ہاں ۔ اس کے بعد وہ شخص کہنے لگا کہ میں اس ( شریعت ) پر ایمان لایا ، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لائے ہیں اور میں اپنی قوم کے ان لوگوں کا جو میرے پیچھے ہیں ، بھیجا ہوا ( نمائندہ ) ہوں اور میں ضمام بن ثعلبہ ہوں ( قبیلہ ) بنی سعد بن بکر سے تعلق رکھتا ہوں ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 57