حدیث نمبر: 54
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ( ایک دن ) اس حالت میں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں لوگوں سے ( کچھ ) بیان کر رہے تھے کہ ایک اعرابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے پوچھا کہ قیامت کب ( قائم ) ہو گی ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( نے کچھ جواب نہ دیا اور اپنی بات ) بیان کرتے رہے ۔ اس پر کچھ لوگوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کہنا سن ( تو ) لیا مگر ( چونکہ ) اس کی بات آپ کو بری محسوس ہوئی اس لیے آپ نے جواب نہیں دیا اور کچھ لوگوں نے کہا کہ ( یہ بات نہیں ہے ) بلکہ آپ نے سنا ہی نہیں ، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بات ختم کر چکے تو فرمایا : ” کہاں ہے ۔ “ میں سمجھتا ہوں کہ اس کے بعد یہ لفظ تھے ۔ ” قیامت کا پوچھنے والا ؟ “ تو سائل نے کہا یا رسول اللہ ! میں ( یہاں ) ہوں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس وقت امانت ضائع کر دی جائے تو قیامت کا انتظار کرنا ( سمجھو قیامت آیا ہی چاہتی ہے ) ۔ اس نے پوچھا کہ امانت کا ضائع کرنا کس طرح ہو گا ؟ فرمایا : جب کام ( معاملہ ) ناقابل ( نااہل ) کے سپرد کیا جائے تو قیامت کا انتظار کرنا ۔