مختصر صحيح بخاري
— حج کے بیان میں
باب: مکہ کے گھروں میں وارثت جاری ہونا اور ان کی خریدوفروخت درست ہے اور لوگ مسجدالحرام میں برابر کا حق رکھتے ہیں ۔
´سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے حجتہ الوداع میں جاتے وقت عرض کی کہ یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، مکہ میں اپنے گھر کے کس مقام میں تشریف فرما ہوں گے ؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عقیل نے کوئی جائداد یا مکانات ( ہمارے لیے ) چھوڑے ہی کب ہیں “ اور عقیل اور طالب ، ابوطالب کے وارث ہوئے تھے ، نہ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ ان کی کسی چیز کے وارث ہوئے تھے اور نہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ۔ کیونکہ یہ دونوں مسلمان تھے اور عقیل اور طالب ( اس وقت تک ) کافر تھے ۔