مختصر صحيح بخاري
— علم کا بیان
باب: جب ( ناصح و معلم ) کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے تو غضبناک انداز میں نصیحت و تلقین کر سکتا ہے ۔
´سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے گری پڑی ( لاوارث ) چیز کا حکم پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کی بندش کو پہچان لے ۔ “ یا یہ فرمایا : ” اس کے ظرف کو اور اس کو تھیلی کو ( پہچان لے ) پھر سال بھر اس کی تشہیر کرے ( یعنی اس کے اصل مالک کو تلاش کرے ) پھر اس کے بعد ( اگر کوئی مالک اس کا نہ ملے تو ) اس سے فائدہ اٹھا لے اور اگر اس کا مالک ( سال بعد بھی ) آ جائے تو اسے اس کے حوالے کر دے ۔ “ پھر اس شخص نے کہا کہ کھویا ہوا اونٹ ( اگر ملے تو اس کو کیا کیا جائے ) ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غضبناک ہوئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں رخسار مبارک سرخ ہو گئے یا ( راوی نے کہا کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تجھے اس اونٹ سے کیا مطلب ؟ اس کی مشک اور اس کا پاپوش اس کے ساتھ ہے ، پانی پر پہنچے گا ( تو پانی پی لے گا ) اور درخت ( کے پتے ) کھا لے گا ، لہٰذا اسے چھوڑ دے ، یہاں تک کہ اس کو اس کا مالک مل جائے ۔ “ پھر اس شخص نے کہا کہ کھوئی ہوئی بکری ( کا پکڑ لینا کیسا ہے ) ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( اس کو پکڑ لو کیونکہ وہ ) تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی یا ( اگر کسی کے ہاتھ نہ لگی تو ) پھر بھیڑیئے کی ۔ “