حدیث نمبر: 549
ابوعبداللہ آصف

´سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ( قبول دعوت اسلام سے ) لوگوں کو پیچھے ہٹتے دیکھا تو ( اللہ سے ) دعا کی : ” اے اللہ ! ( ان پر ) سات برس ( قحط ڈال دے ) جیسا کہ یوسف علیہ السلام کے ( عہد میں ) سات برس تک ( مسلسل قحط رہا تھا ) ۔ “ پس قحط نے انھیں آ لیا ۔ جس نے ہر قسم کی روئیدگی کو نیست و نابود کر دیا حتیٰ کہ لوگوں نے کھالیں اور مردار اور سڑے جانور کھانا شروع کر دیئے اور بھوک کی وجہ سے ( ضعف اس قدر ہو گیا کہ ) جب کوئی ان میں سے آسمان کی طرف دیکھتا تو اس کو دھواں ( سا ) دکھائی دیتا ۔ پس ابوسفیان ( جو اس وقت تک اسلام نہیں لائے تھے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ اے محمد ! آپ تو اللہ کی بندگی اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں اور بیشک یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے لوگ ( ہیں جو مارے بھوک کے ) مرے جاتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے ان کے لیے دعا کیجئیے ۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” اے نبی ! تم اس دن کا انتظار کرو جس دن آسمان ایک صریح دھواں ظاہر کرے گا اگر ہم ان کافروں سے عذاب دور کر دیں تو یہ پھر ( بھی ) کفر کریں گے اس کی سزا ان کو اسی دن ملے گی جس دن ہم ایک سخت گرفت میں ان کو پکڑیں گے ۔ “ ( الدخان : 10 - 16 ) ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا کہ بطشہ ( یعنی پکڑ ) بدر کے دن ہوئی اور بیشک ( سورۃ الدخان میں ) دخان ( دھواں ) اور بطشہ ( پکڑ ) اور ( سورۃ الفرقان میں ) لزام ( قید ) اور سورۃ الروم کی آیت میں جو ذکر ہے سب واقع ہو چکے ہیں ۔

حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 549