حدیث نمبر: 1840
ابوعبداللہ آصف

´ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! آپ میری بہن بنت ابوسفیان سے نکاح کر لیجئیے ۔ آپ نے پوچھا : ” کیا تو یہ بات پسند کرتی ہے ؟ “ ( کیا تجھے سوکن ناگوار نہیں گزرتی ؟ ) میں نے عرض کی ” جی ہاں “ ( لیکن ) اب بھی تو آپ کی میں ہی اکیلی بیوی نہیں ہوں اور مجھے اپنی بہن کو اپنے ساتھ بھلائی میں شریک بنانا ناگوار نہیں ہے ۔ آپ نے فرمایا : ” مجھے یہ جائز ہی نہیں ہے ( کہ دو بہنیں ایک وقت نکاح میں رکھوں ) ۔ “ میں نے کہا کہ ہم نے تو سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوسلمہ کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا ام سلمہ کی بیٹی سے ؟ ( میں نکاح کرنا چاہتا ہوں ) ۔ “ میں نے کہا جی ہاں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ تو اگر میری ربیبہ ( پہلے خاوند سے بیوی کی بیٹی ) نہ بھی ہوتی تب بھی حلال نہ ہوتی کیونکہ وہ دودھ کے رشتے میں میری بھتیجی ہے ، مجھے اور ابوسلمہ ( اس کے باپ ) کو ثوبیہ رضی اللہ عنہا نے دودھ پلایا تھا ( اے بی بی ! تجھ کو لازم ہے کہ ) میرے روبرو اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو پیش نہ کرو ( مجھے حلال نہیں ) ۔ “

حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 1840