مختصر صحيح بخاري
— خمس کے فرض ہونے کا بیان
باب: اس بات کی دلیل کہ پانچواں حصہ مسلمانوں کی ضرورت کے لیے ہے ۔
´سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ( ان کے والد ) نے دو لونڈیاں حنین کے قیدیوں میں سے پائی تھیں اور ان کو مکہ میں کسی گھر میں رکھا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے قیدیوں کو مفت چھوڑ دینے کا حکم دیا تو لوگ گلیوں میں دوڑنے لگے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سے کہا کہ اے عبداللہ ! دیکھو تو یہ کیا ہے ؟ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے قیدی مفت چھڑوا دیے ( یہ اس وجہ سے ہے ) ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا جاؤ تم بھی ان دونوں لونڈیوں کو چھوڑ دو ( یہ لونڈیاں خمس میں سے ان کو ملی تھیں ) ۔