مختصر صحيح بخاري
— جہاد اور جنگی حالات کے بیان میں
باب: جس شخص نے فارسی زبان میں یا کسی اور غیر عربی زبان میں کلام کیا اور اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ الروم میں یہ ) فرمانا ” اور تمہارے رنگ اور زبانوں کا اختلاف ہے “ ۔ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ہر زبان میں کلام کرنا جائز ہے ۔ اور ( سورۃ ابراہیم میں ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی قوم کی اپنی زبان میں ۔
´سیدہ ام خالد بنت خالد بن سعید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں اپنے والد کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی اور میرے جسم پر ( اس وقت ) ایک زرد ( رنگ کا ) کرتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنہ سنہ ۔ “ اور یہ حبشی زبان کا لفظ ہے ۔ جس کے معنی ہیں حسنہ ( یعنی اچھی ہے ) ۔ ام خالد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ پھر میں مہر نبوت کے ساتھ کھیلنے لگی تو میرے والد نے مجھے ڈانٹا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے رہنے دو ۔ “ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مجھے درازی عمر کی دعا دی یعنی ) فرمایا : پرانا کرو اور پھاڑو ۔ پھر پرانا کرو اور پھاڑو پھر پرانا کرو اور پھاڑو ۔ “