مختصر صحيح بخاري
— جہاد اور جنگی حالات کے بیان میں
باب: قیدی کو رہا کروانا اور کر دینا ( کیسا ہے ؟ ) ۔
´سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کتاب اللہ کے سوا کچھ اور وحی بھی آپ کے پاس ہے ؟ انھوں نے کہا نہیں ، قسم ہے اس کی جس نے دانہ کو پھاڑا ( اور اس میں سے درخت نکالا ) اور روح کو پیدا فرمایا : ” میں اس بات سے واقف بھی نہیں ، ہاں ایک سمجھ مجھے ملی ہے جو اللہ کسی شخص کو قرآن ( کے معانی سمجھنے ) میں دیتا ہے اور جو کچھ اس صحیفے میں ہے ۔ میں نے پوچھا کہ اس صحیفے میں کیا ہے ؟ انھوں نے کہا کہ دیت ، عاقلہ اور قیدی کے رہا کرنے کا بیان ہے اور یہ کہ کوئی مسلمان کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے ۔