مختصر صحيح بخاري
— جہاد اور جنگی حالات کے بیان میں
باب: اللہ عزوجل کی راہ میں جو جہاد ہو ، اس میں پہرہ دینا ۔
حدیث نمبر: 1246
ابوعبداللہ آصف
´ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( کسی سفر میں ایک رات کو ) سوئے نہ تھے ، لہٰذا جب مدینہ پہنچے تو ( نیند غالب تھی ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کاش ! میرے نیک اصحاب میں کوئی آج کی شب میرا پہرہ دے ۔ “ اتنے میں اچانک ہم نے ہتھیار کی آواز سنی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کون ہے ؟ “ اس نے جواب دیا کہ سعد بن ابی وقاص ، میں اس لیے آیا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہرہ دوں ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ۔