مختصر صحيح بخاري
— کاشتکاری کا بیان
باب: جب شخص ( کسی سے ) کہے کہ کھجور ( وغیرہ ) کے درختوں کی خدمت تو اپنے ذمہ لے لے ( اور پھل میں تو میرا شریک رہے گا ، تو کیا درست ہے ؟ ) ۔
´سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` تمام اہل مدینہ سے زیادہ کاشت ہمارے ہاں ہوتی تھی ہم کھیت کرایہ پر لیا کرتے تھے ، کرایہ کے بدلے اس کھیت کا ایک خاص حصہ مالک زمین کے نام کر دیا جاتا تھا ( کہ جو کچھ اس میں پیدا ہو اس کو وہ زمین کے کرایہ میں لے لے ) تو کبھی اس حصہ پر کوئی آفت آ جاتی تھی ( اس وجہ سے اس میں کچھ پیدا نہ ہوتا تھا ) اور باقی کھیت محفوظ رہتا تھا اور کبھی باقی کھیت پر کوئی آفت آ جاتی تھی اور وہ حصہ محفوظ رہتا تھا تو ہمیں اس کی ممانعت کر دی گئی اور سونا یا چاندی ( کرایہ میں دینا ) اس وقت ( رائج ) نہ تھا ۔