مختصر صحيح بخاري
— کاشتکاری کا بیان
باب: جب شخص ( کسی سے ) کہے کہ کھجور ( وغیرہ ) کے درختوں کی خدمت تو اپنے ذمہ لے لے ( اور پھل میں تو میرا شریک رہے گا ، تو کیا درست ہے ؟ ) ۔
حدیث نمبر: 1077
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` انصار نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ ہم لوگ اپنے باغات اپنے اور اپنے مہاجرین بھائیوں کے درمیان تقسیم کر لیتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ۔ “ تب انھوں نے ( مہاجرین سے ) کہا کہ تم محنت کرو اور ہم پھلوں تمہیں میں شریک کر لیں گے تو مہاجرین نے کہا کہ اچھا ! ہم نے سنا اور ہم ( اس پیش کش کو ) قبول کرتے ہیں ۔