حدیث نمبر: 46
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّشِيطِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَصَرِيِّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "خَمْسٌ مَنْ جَاءَ مِنْهُنَّ مَعَ إِيمَانٍ بِاللَّهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ : مَنْ حَافَظَ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ عَلَى وُضُوئِهِنَّ وَرُكُوعِهِنَّ وَسُجُودِهِنَّ ، وَأَدَّى الزَّكَاةَ عَنْ مَالِهِ طَيِّبَةً بِهَا نَفْسُهُ ، وَحَجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلا ، وَصَامَ رَمَضَانَ ، وَأَدَّى الأَمَانَةَ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ قَتَادَةَ ، إِلا عِمْرَانُ ، تَفَرَّدَ بِهِ الْحَنَفِيُّ ، وَلا يُرْوَى عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص پانچ کام اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہوئے کرے گا وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ جو شخص پانچ نمازوں کی ان کے وضو، رکوع و سجود سمیت حفاظت کرے گا تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ دل کی خوشی کے ساتھ اپنے مال سے زکوٰۃ ادا کرے۔ جو شخص راستے کی طاقت ہوتے ہوئے بیت اللہ کا حج کرے۔ رمضان المبارک کے روزے رکھے۔ اور امانت ادا کرے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 429 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´اوقات نماز کی حفاظت اور اہتمام کا بیان۔`
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ چیزیں ہیں، جو انہیں ایمان و یقین کے ساتھ ادا کرے گا، وہ جنت میں داخل ہو گا: جس نے وضو کے ساتھ ان پانچوں نماز کی، ان کے رکوع اور سجدوں کی اور ان کے اوقات کی محافظت کی، رمضان کے روزے رکھے، اور بیت اللہ تک پہنچنے کی طاقت رکھنے کی صورت میں حج کیا، خوش دلی و رضا مندی کے ساتھ زکاۃ دی، اور امانت ادا کی۔“ لوگوں نے پوچھا: ابوالدرداء! امانت ادا کرنے کا کیا مطلب ہے؟ تو آپ نے کہا: اس سے مراد جنابت کا غسل کرنا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 429]
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ چیزیں ہیں، جو انہیں ایمان و یقین کے ساتھ ادا کرے گا، وہ جنت میں داخل ہو گا: جس نے وضو کے ساتھ ان پانچوں نماز کی، ان کے رکوع اور سجدوں کی اور ان کے اوقات کی محافظت کی، رمضان کے روزے رکھے، اور بیت اللہ تک پہنچنے کی طاقت رکھنے کی صورت میں حج کیا، خوش دلی و رضا مندی کے ساتھ زکاۃ دی، اور امانت ادا کی۔“ لوگوں نے پوچھا: ابوالدرداء! امانت ادا کرنے کا کیا مطلب ہے؟ تو آپ نے کہا: اس سے مراد جنابت کا غسل کرنا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 429]
429۔ اردو حاشیہ:
یہاں ”امام“ سے مراد شرعی حاکم یا اس کا مقرر کردہ نمائندہ ہے۔ نماز کی اقامت اور امامت ان کے فرائض میں شامل ہے۔
یہاں ”امام“ سے مراد شرعی حاکم یا اس کا مقرر کردہ نمائندہ ہے۔ نماز کی اقامت اور امامت ان کے فرائض میں شامل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 429 سے ماخوذ ہے۔