سنن ابي داود
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب فِي الْمُحَافَظَةِ عَلَى وَقْتِ الصَّلَوَاتِ باب: اوقات نماز کی حفاظت اور اہتمام کا بیان۔
حدیث نمبر: 429
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، وَأَبَانُ ، كلاهما عَنْ خُلَيْدٍ الْعَصَرِيِّ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسٌ مَنْ جَاءَ بِهِنَّ مَعَ إِيمَانٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ : مَنْ حَافَظَ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ عَلَى وُضُوئِهِنَّ وَرُكُوعِهِنَّ وَسُجُودِهِنَّ وَمَوَاقِيتِهِنَّ ، وَصَامَ رَمَضَانَ ، وَحَجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ، وَأَعْطَى الزَّكَاةَ طَيِّبَةً بِهَا نَفْسُهُ ، وَأَدَّى الْأَمَانَةَ " ، قَالُوا : يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ ، وَمَا أَدَاءُ الْأَمَانَةِ ؟ قَالَ : الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانچ چیزیں ہیں ، جو انہیں ایمان و یقین کے ساتھ ادا کرے گا ، وہ جنت میں داخل ہو گا : جس نے وضو کے ساتھ ان پانچوں نماز کی ، ان کے رکوع اور سجدوں کی اور ان کے اوقات کی محافظت کی ، رمضان کے روزے رکھے ، اور بیت اللہ تک پہنچنے کی طاقت رکھنے کی صورت میں حج کیا ، خوش دلی و رضا مندی کے ساتھ زکاۃ دی ، اور امانت ادا کی “ ۔ لوگوں نے پوچھا : ابوالدرداء ! امانت ادا کرنے کا کیا مطلب ہے ؟ تو آپ نے کہا : اس سے مراد جنابت کا غسل کرنا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´اوقات نماز کی حفاظت اور اہتمام کا بیان۔`
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "پانچ چیزیں ہیں، جو انہیں ایمان و یقین کے ساتھ ادا کرے گا، وہ جنت میں داخل ہو گا: جس نے وضو کے ساتھ ان پانچوں نماز کی، ان کے رکوع اور سجدوں کی اور ان کے اوقات کی محافظت کی، رمضان کے روزے رکھے، اور بیت اللہ تک پہنچنے کی طاقت رکھنے کی صورت میں حج کیا، خوش دلی و رضا مندی کے ساتھ زکاۃ دی، اور امانت ادا کی۔" لوگوں نے پوچھا: ابوالدرداء! امانت ادا کرنے کا کیا مطلب ہے؟ تو آپ نے کہا: اس سے مراد جنابت کا غسل کرنا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 429]
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "پانچ چیزیں ہیں، جو انہیں ایمان و یقین کے ساتھ ادا کرے گا، وہ جنت میں داخل ہو گا: جس نے وضو کے ساتھ ان پانچوں نماز کی، ان کے رکوع اور سجدوں کی اور ان کے اوقات کی محافظت کی، رمضان کے روزے رکھے، اور بیت اللہ تک پہنچنے کی طاقت رکھنے کی صورت میں حج کیا، خوش دلی و رضا مندی کے ساتھ زکاۃ دی، اور امانت ادا کی۔" لوگوں نے پوچھا: ابوالدرداء! امانت ادا کرنے کا کیا مطلب ہے؟ تو آپ نے کہا: اس سے مراد جنابت کا غسل کرنا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 429]
429۔ اردو حاشیہ:
یہاں "امام" سے مراد شرعی حاکم یا اس کا مقرر کردہ نمائندہ ہے۔ نماز کی اقامت اور امامت ان کے فرائض میں شامل ہے۔
یہاں "امام" سے مراد شرعی حاکم یا اس کا مقرر کردہ نمائندہ ہے۔ نماز کی اقامت اور امامت ان کے فرائض میں شامل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 429 سے ماخوذ ہے۔