حدیث نمبر: 331
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : "يَقْطَعُ الصَّلاةَ الْكَلْبُ الأَسْوَدُ ، وَالْمَرْأَةُ ، وَالْحِمَارُ ، فَقُلْتُ : مَا بَالُ الْكَلْبِ الأَسْوَدِ مِنَ الأَبْيَضِ ؟ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي ، فَقَالَ : الْكَلْبُ الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ قُرَّةَ ، إِلا أَبُو سَعِيدٍ ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ الْجَبَّارِ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ: ”نماز کو سیاہ کتا، عورت اور گدھا توڑ دیتے ہیں۔“ عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: سیاہ کتے کا سفید کتے سے تخصیص کا کیا سبب ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح پوچھا جس طرح تو نے مجھ سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الصلوٰة / حدیث: 331
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 510، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 806، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2383، 2384، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 748 ،والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 828، وأبو داود فى «سننه» برقم: 702، والترمذي فى «جامعه» برقم: 338، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1454، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 952، 3210، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 3537، 3538، وأحمد فى «مسنده» برقم: 21718، والطبراني فى«الكبير» برقم: 1632، 1635، 1636، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 2685، 3325، 8299، والطبراني فى «الصغير» برقم: 195، 505، 1161»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 510 | سنن ابن ماجه: 952 | معجم صغير للطبراني: 202 | معجم صغير للطبراني: 248

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 952 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´کس چیز کے نمازی کے سامنے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟`
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نمازی کے آگے کجاوہ کی لکڑی کے مثل کوئی چیز نہ ہو تو اس کی نماز عورت، گدھے اور کتے کے گزرنے سے ٹوٹ جاتی ہے ۱؎۔ عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کالے کتے کی تخصیص کی کیا وجہ ہے؟ اگر لال کتا ہو تو؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے تو آپ نے فرمایا: کالا کتا شیطان ہے ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 952]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ شیطان کالے کتے کو نمازی کے سامنے لاتا ہے۔
یا خود شیطان کتے کی صورت بن کر آ جاتا ہے۔
تاکہ نمازی کی توجہ اس کی طرف ہوجائے۔
ویسے بھی بعض جانوروں میں شیطان سے مناسبت پائی جاتی ہے۔
اور ان میں شرارت کا مادہ زیادہ ہوتا ہے۔

(2)
ان کے گزرنے سے واقعی نماز ٹوٹ جاتی ہے۔
اس کی بابت اختلاف ہے۔
علماء کا ایک گروہ نماز ٹوٹ جانے کا قائل ہے جیسا کہ حدیث کے ظاہری الفاظ سے معلوم ہوتا ہے دوسرے علماء کہتے ہیں کہ نماز ٹوٹنے سے مراد خشوع خضوع میں کمی ہے۔
ایک تیسری رائے یہ ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہے اور اس کی ناسخ یہ حدیث ہے۔ (لَايَقْطَعُ الصَّلاَةَ شَيْئٌُ)
 (سنن ابی داؤد، الصلاۃ، باب من قال لا یقطع...، حدیث: 719)
 ’’نماز کو کوئی چیز  نہیں توڑتی‘‘ لیکن پہلا موقف راجح ہے کیونکہ اس کی تائید ایک اور صحیح حدیث سے ہوتی ہے جس میں ہے: (تعاد الصلاة من ممر الحمار والمرأة والكلب الأسود)
 (الصحيحة: 959/7، حديث: 3323)
’’گدھے، عورت اور سیاہ کتے کے گزرنے پر نماز لوٹائی جائے‘‘ اور جنھوں نے (لَايَقْطَعُ الصَّلاَةَ شَيْئٌُ)
 سے استدلال کیا ہے۔
ان کے نزدیک تو اس عموم سے وہ تین چیزیں خارج ہوں گی۔
جن کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔
اور وہ ہیں۔
عورت گدھا اور کالا کتا۔
اس حدیث کے عموم سے مذکورہ تینوں چیزیں مستثنیٰ ہوں گی۔
یعنی ان کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جائے گی۔
اوراس کا اعادہ ضروری ہوگا البتہ ان کےعلاوہ کسی چیز کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹے گی۔
 واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 952 سے ماخوذ ہے۔