حدیث نمبر: 1035
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ الْبَيْرُوتِيُّ مَكْحُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ بَكْرٍ السَّكْسَكِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، عَن ِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ ، وَعَمِلَ بَعْدَ الْمَوْتِ ، وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا وَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مَكْحُولٍ ، إِلا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، وَغَالِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجَزَرِيُّ ، تَفَرَّدَ بِهِ عَنْ ثَوْرٍ عَمْرُو بْنُ بَكْرٍترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سمجھ دار وہ شخص ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے، اور موت کے بعد والے وقت کے لیے عمل کرے۔ اور عاجز وہ ہے جس نے اپنی جان کو اپنی خواہش کے پیچھے لگا لیا اور اللہ تعالیٰ پر آرزوئیں کرتا رہا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2459 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´باب:۔۔۔`
شداد بن اوس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کو رام کر لے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے اور عاجز و بیوقوف وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشات پر لگا دے اور رحمت الٰہی کی آرزو رکھے۔“ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2459]
شداد بن اوس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کو رام کر لے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے اور عاجز و بیوقوف وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشات پر لگا دے اور رحمت الٰہی کی آرزو رکھے۔“ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2459]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ابوبکر بن ابی مریم ضعیف راوی ہیں)
نوٹ:
(سند میں ابوبکر بن ابی مریم ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2459 سے ماخوذ ہے۔