کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: ابوعبیدہ بن عبداللہ بن زمعہ کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُطِيعٍ الْعَدَوِيُّ، عَنْ رُكَيْحِ بْنِ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا لِي أَرَاكِ مُرْتَثَّةً؟» ، فَقُلْتُ: شَرِبْتُ دَوَاءً أَسْتَحْشِي بِهِ، قَالَ: «وَمَا هُوَ؟» ، قُلْتُ: الشُّبْرُمُ، قَالَ: «وَمَا لَكِ وَالشُّبْرُمِ؟» ، قَالَ: «فَإِنَّهُ حَارٌّ نَارٌ عَلَيْكِ بِالسَّنَا وَالسَّنُّوتِ فَإِنَّ فِيهِمَا دَوَاءٌ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ، إِلَّا السَّامَ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو فرمایا: ”کیا بات ہے، میں تمہیں کمزور و لاغر دیکھ رہا ہوں؟“ میں نے عرض کیا: میں نے ایک دوا پی ہے جس سے میں پاخانہ کھلواتی ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: شبرم (ایک تیز جلاب آور بوٹی)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں شبرم سے کیا کام؟ یہ تو گرم اور تیز ہے۔ تم سنا اور سنوت استعمال کرو، کیونکہ ان دونوں میں موت کے سوا ہر بیماری کا علاج ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20254
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 398، حدیث 952
وَعَنْ رُكَيْحِ بْنِ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: «رُبَّمَا صَبَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِدَاءَهُ وَإِزَارَهُ بِزَعْفَرَانٍ، أَوْ وَرْسٍ ثُمَّ خَرَجَ فِيهِمَا»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”بسا اوقات رسول اللہ ﷺ اپنی چادر اور تہبند کو زعفران یا ورس (ایک زرد رنگ کی خوشبودار بوٹی) سے رنگ لیتے، پھر انہیں پہن کر نکلتے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20255
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 399، حدیث 953