کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا ابومریم غسانی رضی اللہ عنہ، ابوبکر بن ابی مریم کے دادا، حمص میں مقیم رہے؛ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کا نام عمرو بن مرہ تھا
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبِي، ح، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَكَرِيَّا الْأَعْرَجُ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَمَةَ الْخَبَائِرِيُّ قَالَا: ثنا بَقِيَّةُ بْنُ صَائِدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ الْغَسَّانِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: «غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَ إِلَيَّ اللِّوَاءَ وَرَمَيْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِالْجَنْدَلِ فَأَعْجَبَهُ ذَلِكَ وَدَعَا لِي»
ترجمہ
سیدنا ابومریم غسانی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ کیا، آپ ﷺ نے میرے حوالے جھنڈا کیا اور میں نے آپ ﷺ کے سامنے پتھروں سے نشانہ بازی کی، آپ ﷺ کو یہ پسند آیا اور آپ ﷺ نے میرے لیے دعا فرمائی۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَلَاءِ، مِنَ آلِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ: وُلِدَتْ لِي اللَّيْلَةَ جَارِيَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللَّيْلَةُ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ سُورَةُ مَرْيَمَ سَمِّهَا مَرْيَمَ فَكَانَتْ تُسَمَّى مَرْيَمَ»
ترجمہ
سیدنا ابومریم غسانی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: آج رات میرے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”آج رات مجھ پر سورۃ مریم نازل ہوئی ہے، اس کا نام مریم رکھو۔“ چنانچہ اس کا نام مریم رکھا گیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبِي، ح، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَكَرِيَّا الْأَيَادِيُّ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ حُجْرِ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ: أَقْبَلَ أَعْرَابِيٌّ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَاعِدٌ وَعِنْدَهُ خَلْقٌ مِنَ النَّاسِ، فَقَالَ: أَلَا تُعْطِيَنِي شَيْئًا أَتَعَلَّمُهُ وَأَحْمِلُهُ وَيَنْفَعُنِي وَلَا يَضُرُّكَ؟، فَقَالَ النَّاسُ: مَهِ اجْلِسْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعُوهُ فَإِنَّمَا سَأَلَ الرَّجُلُ لِيَعْلَمَ» ، قَالَ: فَأَفْرَجُوا لَهُ حَتَّى جَلَسَ، قَالَ: أَيُّ شَيْءٍ كَانَ أَوَّلَ أَمْرِ نُبُوَّتِكَ، قَالَ: " أَخَذَ اللهُ مِنِّي الْمِيثَاقَ كَمَا أَخَذَ مِنَ النَّبِيِّينِ مِيثَاقَهُمْ ثُمَّ تَلَا {وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينِ مِيثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ، وَإِبْرَاهِيمَ، وَمُوسَى، وَعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ وَأَخَذْنَا مِنْهُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا} [الأحزاب: ٧] . وَبَشَّرَ بِي الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ وَرَأَتْ أُمَّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنَامِهَا أَنَّهُ خَرَجَ مِنْ بَيْنِ رِجْلَيْهَا سِرَاجٌ أَضَاءَتْ لَهُ قُصُورُ الشَّامِ "، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: هَاهِ وَأَدْنَى مِنْهُ رَأْسَهُ وَكَانَ فِي سَمْعِهِ شَيْءٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَوَرَاءَ ذَلِكَ»
ترجمہ
...اس نے کہا: کیا آپ مجھے کوئی ایسی چیز نہیں دیتے جو میں سیکھوں، اٹھاؤں، جو مجھے فائدہ دے اور آپ کو نقصان نہ دے؟ لوگوں نے کہا: خاموش رہو، بیٹھ جاؤ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، یہ شخص تو سیکھنے کے لیے سوال کر رہا ہے۔“ کہتے ہیں: چنانچہ انہوں نے اس کے لیے جگہ بنا دی یہاں تک کہ وہ بیٹھ گیا۔ اس نے پوچھا: آپ کی نبوت کے آغاز میں سب سے پہلے کیا چیز ہوئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھ سے بھی وہی عہد لیا جو اس نے دوسرے انبیاء سے لیا تھا“، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: ”اور جب ہم نے انبیاء سے ان کا عہد لیا، اور تجھ سے، اور نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم سے، اور ہم نے ان سے پختہ عہد لیا“ [سورۃ الاحزاب: 7]۔ ”اور مجھے مسیح ابن مریم نے خوشخبری دی، اور رسول اللہ ﷺ کی والدہ نے اپنے خواب میں دیکھا کہ ان کے دونوں پاؤں کے درمیان سے ایک چراغ نکلا جس سے شام کے محل روشن ہو گئے۔“ اعرابی نے کہا: ہاہ! اور اپنا سر آپ ﷺ کے قریب کر دیا کیونکہ اس کی سماعت میں کچھ کمزوری تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔“
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ خَالِدٍ السَّلَفِيُّ الْحِمْصِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْخَبَائِرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ حُجْرٍ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ أَكْلِ الضَّبِّ»
ترجمہ
سیدنا ابومریم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے گوہ (ایک صحرائی جانور) کھانے سے منع فرمایا۔